خطبات محمود (جلد 22) — Page 471
خطبات محمود جاتا 471۔* 1941 بلکہ وہ خیال کرتا ہے کہ مبادا اس سے کوئی بات رہ گئی ہو۔اس لئے وہ دوسرے کے پاس جاتا ہے اور جب دوسرا بھی اسے وہی مضمون سناتا ہے جو پہلے نے سنایا تو اس کسی قدر تسلی ہوتی ہے مگر پورا اطمینان اسے پھر بھی میسر نہیں آتا۔اور وہ تیسرے کے پاس جاتا ہے۔پھر چوتھے اور پھر پانچویں کے پاس جاتا ہے اور اس طرح پانچ سات متفرق آدمیوں سے مختلف موقعوں پر وہ خط پڑھواتا ہے اور چونکہ ان میں سے کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ پہلے یہ کسی اور سے خط کا مضمون سن چکا ہے اس لئے جب سب اسے خط کا ایک ہی مضمون بتاتے ہیں تو اسے اطمینان ہو ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اب اس نے خط کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اسی طرح اگر کسی شخص کو عربی نہیں آتی تو محض اس عذر کی بناء پر وہ قرآن کریم کے ڑھنے اور اس کے مطلب کو سمجھنے سے آزاد نہیں ہو سکتا۔اس کا فرض ہے کہ وہ کسی پڑھے لکھے انسان سے قرآن سنے اور جب ایک دفعہ سن چکے تو مطمئن نہ ہو بلکہ خیال کرے کہ شاید اس نے کوئی بات غلط بتائی ہو۔اس لئے وہ دوسرے کے پاس جائے تو اس سے قرآن سنے۔پھر تیسرے کے پاس جائے اور اس سے قرآن سنے۔پھر چوتھے کے پاس جائے اور اس سے قرآن سنے۔یہاں تک کہ بار بار قرآن کو سننے کے بعد اسے یہ یقین حاصل ہو جائے کہ اس نے خدا کے کلام کو سمجھ لیا ہے مگر اس کے علاوہ قرآن کریم میں ایک اور بات بھی ہے اور وہ یہ کہ کارڈ کا مضمون تو صرف اس وقت کے لئے ہوتا ہے اور بعد میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔مگر قرآن کریم خدا تعالیٰ کا وہ کارڈ ہے جو ایک دفعہ ہی آیا ہے اور اب دوبارہ نہیں آئے گا۔ایسے کارڈ کو سننا اور اس کے مضامین کو یاد رکھنا تو بہت ہی ضروری ہے۔پڑھے پڑھے لکھے لوگوں کے لئے جو قرآن کریم کے مطالب سمجھنے کی بھی توفیق رکھتے ہیں۔ان کے لئے تو یہ آسانی ہوتی ہے کہ وہ گھر میں بیٹھ کر قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں جیسے میں درس میں شامل نہیں ہوتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں گھر پر قرآن کریم کو پڑھ لیتا ہوں۔اور مجھے خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ میں اس کو سمجھ سکوں۔