خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 462

خطبات محمود تو اور 462 * 1941 ہٹلر ظالم ہے۔پس جس فعل کو ہم ظالمانہ سمجھتے ہیں اگر اس کے مقابلہ میں ہم کوئی کوتاہی والی صورت پیدا کریں تو ہم مجرم ہوں گے اس لئے ہم کوئی ایسی کارروائی نہیں کر سکتے جس سے جنگ کے کاموں میں روک پیدا ہو۔میں نے دیکھا ہے جب کبھی کوئی ایسی بات ہو بعض پرجوش نوجوان کہہ دیتے ہیں کہ جب گورنمنٹ کا ہم سے یہ سلوک ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم فوج میں بھرتی ہوں یا گورنمنٹ کی مالی مدد کریں اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو لوگ ہماری جماعت میں سے بھرتی ہو رہے ہیں۔وہ نہ ہیڈ کانسٹیبلوں کی خاطر جان دے رہے ہیں اور نہ پنجاب کے وزراء وغیرہ کی خاطر جان دے رہے ہیں بلکہ وہ جو جان دے رہے ہیں اپنے بادشاہ کے لئے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ جماعت احمدیہ کی تعلیم کے ماتحت جان دے رہے ہیں۔پس اس قسم کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آنی چاہئے۔مومن جو کام بھی کرتا ہے عقل کے مطابق کرتا ہے۔یہ نہیں کہ لڑائی ایک طرف تو وہ حملہ دوسری طرف کر دے۔فرض کرو ہمیں اپنی تحقیق کے بعد یہ ثابت ہو ہے کہ اس فتنہ میں بعض بالا حکام کا دخل تھا یا سی آئی۔ڈی کے کسی افسر کا خل تھا تو پھر بھی ہماری ان کوششوں میں کوئی فرق نہیں آنا چاہئے بلکہ ہر دفعہ ہماری کوششوں کی رفتار پہلے سے زیادہ تیز ہونی چاہئے۔میں نے ذاتی طور پر جتنا چندہ گورنمنٹ کی امداد کے لئے پچھلے سال دیا تھا اس سے زیادہ چندہ اس سال دیا ہے اور جتنا چندہ پچھلے سال انجمن سے دلوایا تھا اس سے زیادہ اس سال دلوایا ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی اور افلاس نے مجھے مجبور نہ کر دیا تو میرا یہی ارادہ ہے کہ ہر سال پہلے سال سے زیادہ چندہ دیتا چلا جاؤں۔اسی طرح جتنے رنگروٹ ہماری جماعت سے ایک مہینہ میں بھرتی ہوں۔اس سے زیادہ رنگروٹ دوسرے مہینہ میں بھرتی ہونے چاہئیں۔اور اس سے زیادہ رنگروٹ تیسرے مہینہ میں بھرتی ہونے چاہئیں کیونکہ پنجاب کی حکومت یا اس کے افسران میں سے کسی افسر کا کوئی قصور ایمپائر یا دنیا کے حقوق کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور وہ ہماری ہو جاتا۔