خطبات محمود (جلد 22) — Page 458
* 1941 458 خطبات محمود اشتعال پیدا ہو۔میں ابھی حکومت کا رویہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیسا ہے۔اِنْشَاءَ اللهُ اتوار کے دن دوستوں کو تمام حالات بتا دیئے جائیں گے۔اور اس وقت تک تین چار دن بھی گزر چکے ہوں گے۔میں نے حکومت کو توجہ دلائی ہے کہ مجھے تار کے ذریعہ جواب دیا جائے مگر ابھی تک مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔ہز ایکسی لینسی گورنر پنجاب کو جو خط میں نے لکھا ہے اس میں میں نے تحریر کیا ہے کہ ہماری جماعت لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کی بہبودی کے لئے خرچ کر چکی ہے اور جو جماعت لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کے لئے خرچ کر چکی ہو اس کے امام کا یہ مطالبہ کہ اس کی چٹھی کا ب دو روپے کی تار کے ذریعہ دیا جائے کوئی ناواجب مطالبہ نہیں عقلاً اور انصافاً مطالبہ بالکل جائز اور درست ہے۔لیکن بہر حال چونکہ طاقت اور اقتدار حکومت کے ہاتھ میں ہے اس لئے تار کے ذریعہ جواب دینا یا نہ دینا اس کی مرضی پر منحصر ہے لیکن بہر حال اتوار تک خط کے ذریعہ بھی جواب آ سکتا ہے۔اگر اس وقت تک جواب آگیا تو جماعت کے نمائندگان کے سامنے اسے رکھا جائے گا اور اگر نہ آیا تو اس کی ذمہ داری گورنمنٹ پر ہو گی۔میں نے بدھ کو تار دیا تھا اس کا جواب جمعرات کو آ جانا چاہئے تھا جمعرات کو نہ آتا تو جمعہ کو آ جانا تھا جمعہ کو نہیں آیا تو ہفتہ کو آ سکتا ہے اور اگر ہفتہ کو نہ آئے تو اتوار کو آ سکتا ہے۔اگر اتوار کو بھی حکومت کی طرف سے تار اور خط کا کوئی جواب نہ آیا تو اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ گورنمنٹ پر ہو گی۔چونکہ ہماری جماعت کے بعض نمائندے قانونی مجالس میں بھی ہیں اور جب گورنمنٹ نے یہ قانون بنایا تھا تو اس وقت گورنمنٹ کی کونسل میں ہماری جماعت کا بھی ایک فرد موجود تھا۔گو وہ جماعت کا نمائندہ نہیں تھا۔اس لئے میں اس امر پر اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر قانون کا وہی منشاء ہے جو ظاہر ہوا ہے اور اس قانون کے پاس کرنے میں ہمارے ان دوستوں کا بھی ہاتھ ہے جو قانون ساز مجلس میں ہیں تو یقینا انہوں نے یہ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔کانگریس والوں پر بھی بے شک