خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 450

* 1941 450 خطبات محمود جو میں نے درد صاحب کو اس لئے دیا کہ وہ گورنر صاحب پنجاب کو بھیجوا دیں۔انہوں نے درد صاحب سے وہ پیکٹ چھین لیا اور پھر انہوں نے تھانہ میں کوئی جھوٹی رپورٹ بھیج دی جس پر مسلح پولیس آگئی۔پھر میں نے ان سپاہیوں سے کہا کہ یہ جو مسلح پولیس آئی ہے یہ ضرور کسی تمہاری رپورٹ کے نتیجہ میں آئی ہے۔تم نے لکھا ہو گا کہ یہ لوگ ہمیں مارنے اور قتل کرنے کے درپے ہیں۔یقینا تم نے ایسا ہی لکھا ہے ورنہ تھانے والوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ مسلح پولیس یہاں بھیج دیتے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ جب درد صاحب سے تم نے پیکٹ چھینا تھا تو کیا اس سے تمہاری غرض یہ نہیں تھی کہ تم یہ بات بنا سکو کہ تم نے وہ پیکٹ خلیل سے لیا ہے۔اس پر وہ کہنے لگے جس طرح آپ نے کوئی بات بنانی تھی اسی طرح ہم نے بھی کوئی بات بنانی ہی تھی۔یہ باتیں انہوں نے ان ڈپٹی کمشنر صاحب کے سامنے کیں اور میں نے بھی ان سے اس لئے کہلوائیں تاکہ وہ ڈپٹی کمشنر ان باتوں کے گواہ بن جائیں (گو میں نہیں کہہ سکتا کہ ان باتوں میں سے انہوں نے کتنی سنیں کیونکہ اس وقت مختلف باتیں ہو رہی تھیں) اسی طرح ابھی ڈپٹی کمشنر صاحب نہیں آئے تھے کہ مجھے نیچے سے ایک سپاہی کی آواز آئی جو کسی دوسرے سپاہی سے بات کر رہا تھا۔معلوم ہوتا ہے کوئی سپاہی بد نیتی سے اندر آنا چاہتا تھا کہ ہمارے آدمیوں نے اسے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔اس پر دوسرا سپاہی اسے کہنے لگا “ایدھر آ جا اوئے انہاں دا کی اعتبار ہے جو چاہن گل بنا لین” یعنی ان کا کیا اعتبار ہے ان کا جو جی چاہے گا ہمارے خلاف بات بنا لیں گے۔گویا ہمارے سب لوگ جھوٹے تھے اور وہ لوگ جو روزانہ قسمیں کھاتے اور ہمارے سامنے جھوٹ بول رہے تھے وہ سچے تھے۔خیر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے کچھ دیر ان سے باتیں کرنے کے بعد مجھ سے کہا کہ ان سپاہیوں سے باتیں کرنی فضول ہیں۔ان میں کوئی افسر نہیں ہے اور نہ ہی ان کو کوئی اختیار ہے۔آپ کو چاہئے کہ ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کی طرف آدمی بھجوا دیں اور انہیں ان تمام حالات سے اطلاع دیں۔میں نے کہا کہ اس کا