خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 451

* 1941 451 خطبات محمود میں پتہ کروا چکا ہوں۔ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس دونوں اس وقت باہر ہیں۔اسی وجہ سے ہم حیران ہیں کہ کیا کریں۔انہوں نے کہا تو پھر یہ جو کانسٹیبل یا ہیڈ کانسٹیبل ہیں ان سے بات کرنی فضول ہے۔انہیں دیکھ کر تو یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ ان کا افسر کون ہے۔پھر انہوں نے کہا یہاں مسٹر سلیٹر ایس۔ڈی۔او ہیں۔مرزا مظفر احمد صاحب ان کے پاس چلے جائیں۔میں نے کہا مظفر احمد کا جانا ٹھیک نہیں وہ یہاں گواہ کے طور پر ہیں۔میں درد صاحب اور مرزا ناصر احمد کو بھجوا دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے ان دونوں کو مسٹر سلیٹر کی طرف بھیجوا دیا اور خود ان سپاہیوں سے پوچھا کہ تم میں افسر کون ہے۔اس پر وہ پہلے تو کہنے لگے کہ ہمیں پتہ نہیں ہمارا کون افسر ہے پھر جب مزید اصرار کیا تو ان میں سے کوئی کہے کہ یہ افسر ہے اور کوئی کہے وہ افسر ہے۔آخر ایک کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے یہ سب سے بڑا ہے اور وہ بغیر وردی کے تھا۔اس سے پوچھا تو وہ کہنے لگا میں وردی میں ہی نہیں۔فلاں شخص ہے۔اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ بے وردی شخص سینئر ہے میں افسر نہیں۔جب اسے کہا گیا کہ وہ تو منکر ہے تو اس نے جواب دیا کہ “ جنھوں سمجھ لو " یعنی جسے چاہیں افسر سمجھ لیں۔آخر ان ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان سے پوچھا کہ تم کو یہ تو بتانا چاہئے تم میں سے بڑا کون ہے۔اس پر بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔غرض اسی قسم کی آئیں بائیں شائیں کرتے رہے خیر انہوں نے کہا مسٹر سلیٹر ایس۔ڈی۔او ابھی آ جائیں گے۔ان لوگوں سے بات کرنی فضول ہے آپ اندر چل بیٹھیں۔چنانچہ وہ اور میں اور عزیزم مظفر احمد کمرہ میں گئے۔تھوڑی دیر میں مسٹر سلیٹر ناصر احمد کے ساتھ آگئے۔مسٹر سلیٹر نے کوٹ اتارا اور بیٹھتے ہی کہا کہ میں پولیس افسر نہیں۔میرے پاس تو جب کیس آتا ہے اس وقت اسے سنتا ہوں۔وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔یو نہی یہ سن کر کہ کوئی باہر سے یہاں چند دنوں کے لئے آیا ہوا ہے اور اسے پولیس والوں کے متعلق کوئی شکایت پیدا ہوئی ہے چلے آئے۔میں نے بھی ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ بغیر بیٹھ