خطبات محمود (جلد 22) — Page 45
* 1941 45 4 خطبات محمود بعض حکام کے افسوسناک رویہ پر صبر اور دعاؤں سے کام لو فرموده 7 فروری 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھے کھانا کھانے کے بعد چونکہ شدید متلی کی تکلیف ہو گئی ہے اس لئے میں زیادہ دیر تک نہیں بول سکتا لیکن موقع اور اہمیت کے لحاظ سے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک اہم امر کی طرف جماعت کو توجہ دلا دوں او ر وہ یہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے حکام کا رویہ پھر کچھ ایسا ہو رہا ہے جو اس نیت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کو بدنام کرنا چاہتے ہیں یا اسے بلا وجہ دِق کرنا چاہتے ہیں۔ابھی تک میں اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا کہ اس کی اصل ذمہ داری کس حاکم پر عائد ہوتی ہے لیکن بہر حال لیکن بہر حال سکھوں کے دیوان کے بعد سے لے کر اب تک باوجود اس بات کو تسلیم کرنے کے کہ جماعت احمدیہ کا نمونہ نہایت اعلیٰ درجہ کا تھا اور تحریری طور پر اس کا اظہار کرنے کے عملی کارروائی یہی ہو رہی ہے کہ مختلف مواقع پیدا کر کے جماعت احمدیہ کو دق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔گو میں نہیں سمجھ سکا کہ اگر اس حالت کا موجب کوئی انگریز ہے تو انگریز قوم جو اتنی ہوشیار ہے اور جو اس بات کو سمجھتی ہے کہ ایام جنگ میں کسی قسم کا فتنہ پیدا کرنا بالخصوص ایسی جنگ کے دنوں میں جس میں خود انگلستان کی ہستی معرضِ خطر میں ہے کوئی دانائی کی بات