خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 43

خطبات محمود 43 *1941 فروخت ہو چکا ہے۔پس میں اس کی فروخت کے لئے نہیں بلکہ تبلیغ کے لئے ایک موثر ذریعہ ہونے کی وجہ سے اس کی تحریک کر رہا ہوں اور اس سے تبلیغ کے لئے موقع پیدا ہو سکتا ہے۔بعض لوگ اسے ہتک سمجھتے ہیں کہ اسے دوسروں کے پاس فروخت کریں۔حیدر آباد کے بعض دوستوں کو میں نے تحریک کی تو انہوں نے کہا ہم خرید کر امراء کو بطور تحفہ پیش کر دیں گے مگر میں نے کہا کہ مجھے یہ منظور نہیں اور مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تحریک کی جائے کہ لوگ خود خریدیں۔انہوں نے کہا یہ بڑی مشکل بات ہے۔میں نے کہا جب تک اسے بیچو گے نہیں تمہارا نفس بھی نہیں مرے گا اور اگر خود خرید کر کسی کو دے دو گے تو یہ خدا تعالیٰ کی خاطر نہیں بلکہ انسان کی خاطر نیکی ہو گی۔پس اگر لاہور کے دوست دس دس ہیں ہمیں دوستوں کے پاس جائیں تو اسی ذریعہ سے ہزاروں لوگوں کو تبلیغ کا موقع مل جائے گا۔کوئی گالیاں دے گا، کوئی برا بھلا کہے گا ، مگر کوئی خرید بھی لے گا اور کسی نہ کسی کے کان میں آواز پڑے گی تو کسی نہ کسی کو ہدایت بھی ہو جائے گی۔ہم نے دیکھا ہے کئی لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب خریدی تو اسی کے ذریعہ ان کے پوتے نے بیعت کر لی اور اس نے بیان کیا کہ اس طرح کتاب پڑی تھی میں نے اسے پڑھا تو مجھے سمجھ آگئی اور میں نے مان لیا۔پس دوستوں کو تبلیغ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کیونکہ یہ مرکزی مقام ہے اور اس میں جماعت جتنی ترقی کرے گی اور جتنی مضبوط ہو گی اتنا ہی اس کا اثر سارے صوبہ پر اچھا ہو گا۔پس تبلیغ مقامی لحاظ سے بھی اور جماعت کے لحاظ سے بھی لاہور کی جماعت کے لئے بہت ضروری ہے اور اس طرف ان کو خاص توجہ کرنی چاہئے۔" (الفضل 22 مارچ 1941ء) 1 مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 423 مطبوعہ بیروت 1978ء، مسلم کتاب المساجد باب يَجِبُ اِثْيَانِ الْمَسْجِدِ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ 2 مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی۔(اردو انسائیکلو پیڈیا)