خطبات محمود (جلد 22) — Page 42
$1941 42 خطبات محمود ہوتا دشمنوں نے جب حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا کے میدان میں شہید کیا تو کون کہہ سکتا تھا کہ ان کا نام دنیا میں عزت سے یاد کیا جائے گا۔اس وقت دشمن کتنے فخر سے کہتے ہوں گے کہ ہم نے موذی کی نسل کا ہی صفایا کر دیا اور دیکھ لو کیسا برا انجام ان لوگوں کا ہوا۔مگر زمانہ نے آخر کیا ثابت کیا؟ یہی کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے خاندان کی تباہی کے باوجود بھی ان کا نام ہمیشہ عزت کے ساتھ زندہ ہے۔اور اولاد بھی اتنی پھیلی ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ میں سادات موجود ہیں اور دوسری طرف دیکھ لو آج بھی کہ جو ایمانی تنزل کا زمانہ ہے کسی کو یہ جرات نہیں کہ اپنے بیٹے کا نام یزید رکھ سکے۔جس طرح بعض زمانوں میں خدا تعالیٰ کا نام بھی دنیا سے مٹ جاتا ہے بیشک اس کے بندوں کا بھی مٹ جاتا ہے مگر جب بھی پھر خدا تعالیٰ کا نام ابھرتا ہے ساتھ ہی ان کا بھی ابھر آتا ہے۔اگر انسان خدا تعالیٰ کے نام کو دل سے نکالتا ہے تو ان کا بھی نکل تو ان کا بھی نکل جاتا ہے مگر جب خدا تعالیٰ کا نام زندہ ہے ان کا بھی ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔پس اپنی حالت کو اس رنگ میں سنوارو کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ مستقل رشتہ پیدا ہو جائے اور اس رشتہ کے پیدا کرنے کا طریق میں نے بتا دیا ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بے شک لاہور کی جماعت بڑھ رہی ہے مگر لاہور کا شہر ان سے بہت زیادہ نسبت سے بڑھ رہا ہے۔پہلے کبھی جمعہ میں میں نے اتنے آدمی نہیں دیکھے جتنے آج ہیں مگر پہلے شہر بھی اتنا بڑھا ہوا نہیں دیکھا جتنا آج ہے اور اگر شہر زیادہ بڑھے اور جماعت اس شہر زیادہ بڑھے اور جماعت اس نسبت سے کم بڑھے تو یہ جماعت کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔اس لئے احباب کو تبلیغ کی طرف بھی خاص طور پر توجہ کرنی چاہئے۔اب تو تبلیغ کے لئے ایک بہانہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ہر شخص تفسیر کبیر لے کر اپنے دو دو چار چار دس دس ہیں ہیں بلکہ پچاس پچاس اور سو سو دوستوں کے پاس جائے اور اس کی خریداری کی تحریک کرے۔یہ میں کسی ذاتی نفع کے لئے نہیں کہہ رہا کیونکہ یہ تفسیر سلسلہ کا مال ہے میرا ذاتی نہیں۔نیز اس تفسیر کی اشاعت پر اس قدر زور دینے کی بھی مجھے ضرورت نہیں کیونکہ اس کا اکثر حصہ