خطبات محمود (جلد 22) — Page 378
* 1941 379 خطبات محمود اسے قبول کر لیا اور فرمایا میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ مسلمان کی بات جھوٹی ہو گئی اور یہ کہ مسلمانوں میں ایک حبشی کی بات قابل اعتبار نہیں اور عرب کی ہے۔کوئی فلسفی کہہ سکتا ہے کہ پھر ایسی مثالیں تو روز پیش آ سکتی ہیں اور حکومت کی تباہی کا موجب ہو سکتی ہیں مگر یہ درست نہیں۔اس قسم کی بات ایک ہی دفعہ ہو ہے۔اسے اصول کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔رسول کریم صلی ا ہم ایک مرتبہ مجلس میں تشریف فرما تھے اور جنت کی نعماء کا ذکر فرما رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہاں اس طرح روحانی ترقیات عطا ہوں گی یوں علوم کی ترقی ہو گی یوں فرشتے نازل ہوں گے اور یہ کہ فلاں فلاں انعامات اللہ تعالیٰ نے میرے لئے مقدر فرمائے ہیں۔معاً ایک صحابی کھڑے ہوئے اور يَا رَسُول اللہ کہا! دعا کریں کہ جنت میں اللہ تعالیٰ مجھے بھی آپ کے ساتھ رکھے۔آپ نے دعا کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ساتھ رکھے گا۔اب خدا جانے اس صحابی کا درجہ کیا تھا۔اس کے اعمال رسول کریم صلی ال نیلم کے اعمال کا لاکھواں کروڑواں حصہ بھی نہ ہوں گے۔وہ نہ کبھی ایسے اعمال بجا لایا جو رسول کریم صلی کم بجا لاتے اور نہ وہ عبادتیں کیں جو آپ کرتے تھے۔صرف ایک فقرہ کہا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کو قبول فرما لیا۔اب کوئی معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ تو بڑا آسان کام ہے جو اٹھا اس نے یہ فقرہ کہہ دیا۔مگر یہ بات نہیں۔جب رسول کریم صلی ا ولم نے اس صحابی کی بات کو سن کر دعا کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کو قبول فرما لیا ہے تو ایک اور صحابی اٹھے اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں بھی چاہتا ہوں کہ جنت میں آپ کا ساتھ حاصل ہو۔مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ پہلی بات تھی جو پوری ہو گئی۔اب اس کی نقل میں بات کرنے والوں کو یہ مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔غرض ایسے امور میں جو فیصلہ ہو وہ بطور سبق کے ہوتا ہے نہ کہ بطور دوامی دستور کے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حبشی مسلمان کی بات صرف اس لئے مان لی کہ اس سے پہلے کوئی اصل قائم نہ ہوا تھا اور آپ ڈرے کہ ایک مسلمان کا قول بے وقعت نہ ہو۔