خطبات محمود (جلد 22) — Page 377
* 1941 خطبات محمود 378 بتاؤ کیا یہ شرائط منظور ہیں۔وہ بے چارہ آن پڑھ آدمی تھا۔اس نے سمجھا یہ باتیں منظور ہی ہوں گی۔جب لڑائی ختم ہو رہی ہے تو ان کے ماننے میں کیا حرج ہے اور اس لئے اس نے کہہ دیا کہ ہاں منظور ہیں۔اس پر عیسائیوں نے اعلان کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح ہو گئی ہے اور دروازے کھول دیئے۔جب اسلامی جرنیل تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کوئی صلح کی نہیں۔تم لوگوں نے کس کے ساتھ صلح کی ہے۔عیسائیوں نے کہا کہ فلاں حبشی نے ہم سے یہ معاہدہ کیا ہے۔مسلمانوں افسروں نے کہا کہ وہ کوئی افسر نہ تھا اور اسے صلح کی شرائط طے کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔عیسائیوں نے جواب دیا کہ ہمیں کیا علم تمہارا کون افسر ہے اور کون نہیں۔ہم سے معاہدہ ہو چکا ہے۔اور اب تم لوگوں کو اس کی پابندی کرنی چاہئے۔اسلامی سپہ سالار۔نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سارے واقعہ کی اطلاع دے دی اور لکھا کہ عجیب واقعہ ہوا ہے۔عیسائیوں نے ہمارے ساتھ چالا کی کی ہے اور ایک حبشی سے بات چیت ن کر کے دروازے کھول دیئے ہیں۔اب ہم حیران ہیں نہ ان کی شرطوں کو مبر مان سکتے ہیں اور نہ لڑائی کر سکتے ہیں۔شرطیں ایسی ہیں جو ہمارے لئے قابل نہیں۔سارا معاملہ آپ کے پیش کیا جاتا ہے۔آپ اجازت دیں کہ ہم اس ملک پر اسی طرح قبضہ کریں جس طرح ایک فاتح قبضہ کرتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے جو کچھ لکھا درست ہے بے شک مسلمانوں نے سخت جنگ کی اور اس ملک کو فتح کیا اور بے شک عیسائیوں نے دھوکا کیا ہے۔مگر میں تمہاری رائے کو تسلیم کر کے اسی طرح ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دوں جس طرح فاتح قبضہ کرتا ہے تو لوگ کہیں گے کہ مسلمانوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ حبشی بہر حال مسلمان ہے اور میں اس کی بات کو جھوٹا نہیں کر سکتا۔اس کے منظور کردہ شرائط کے مطابق ہی عیسائیوں سے صلح کی جائے۔1 اگر حضرت عمر چاہتے تو اس معاہدہ کو رد کر سکتے تھے اور اس صورت میں دنیا کی کوئی قوم آپ پر اعتراض نہ کر سکتی تھی کیونکہ عیسائیوں نے جو کچھ کیا وہ سراسر دھوکا تھا۔مگر پھر بھی آپ نے