خطبات محمود (جلد 22) — Page 376
* 1941 377 خطبات محمود وہ نہ آتا جتنا کہ اس حالت میں اس کے بچہ کو ہنستا دیکھ کر انہیں آیا ہو گا۔تو کئی خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو دراصل رونے کا موجب ہوتی ہیں۔جہالت، نادانی اور ناواقفی کی خوشیاں ہوتی ہیں۔ان میں حصہ لینے والا جانتا نہیں کہ دنیا مجھ پر رو رہی ہے اور میں مصیبتوں میں مبتلا ہوں۔آج مسلمانوں کی خوشیاں دیکھ لو۔کیا آج مسلمان خوش نہیں ہوتے ، کیا آج مسلمان قہقہے نہیں لگاتے۔وہ خوش بھی ہوتے ہیں، قہقہے بھی لگاتے ہیں اور ہر وہ کام جو کامیاب قوموں کو زیب دیتا ہے کرتے ہیں۔وہ میلوں اور تماشوں میں بھی جاتے ہیں۔ان سب جلسوں وغیرہ میں جو خوشیوں کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں شامل ہوتے ہیں۔وہ شعر و شاعری کا مذاق بھی رکھتے ہیں۔شعر کہتے اور ایک دوسرے کے شعر سن کر سر دھنتے اور داد دیتے ہیں۔خوب قہقہے لگاتے ہیں بلکہ ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں سے زیادہ ہنستے ہیں اور ہنستے ہوئے ان کی باچھیں، ان قوموں کے لوگوں کی نسبت زیادہ کھلتی ہیں جو ران ہیں۔مگر کیا مسلمانوں کی یہ ہنسی، یہ قہقہے اور یہ مسکراہٹیں حقیقی خوشی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔کہاں وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کا سر دین اور دنیا دونوں لحاظ سے سب سے اونچا تھا۔ایک مسلمان کے قول کو سب سے زیادہ معتبر سمجھا جاتا تھا۔دوسرے بادشاہوں کی بات پر اتنا اعتبار نہ کیا جاتا تھا جتنا ایک عامی مسلمان کی بات پر۔مسلمان اگر کوئی بات کہہ دیتا تو لوگ سمجھتے تھے یہ ضرور ہو کر رہے گی۔ایک مرتبہ اسلامی لشکر شام میں آرمینیا کے کنارے پر عیسائیوں سے سخت جنگ لڑ رہا تھا۔بڑی لمبی جنگ کے بعد مسلمانوں کو یہ معلوم ہوا کہ کل ہم فتح حاصل کر لیں گے عیسائیوں کو بھی جو محصور تھے یہ سمجھ آگئی کہ اب وہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کی مقابلہ ومقاومت کی آخری کوشش بھی ناکام ہو چکی ہے اور اب مسلمانوں کی فتح کے راستہ میں کوئی روک نہیں اور وہ کل تک ضرور فتح پالیں گے۔ایک مسلمان حبشی غلام چشمہ سے پانی بھر رہا تھا۔عیسائیوں کا ایک افسر اس کے پاس آیا اور کہا کہ لو میاں اگر ہم قلعہ چھوڑ دیں تو بتاؤ کن شرطوں پر صلح کر لو گے۔اگر تم یہ یہ باتیں مان لو تو ہم ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔