خطبات محمود (جلد 22) — Page 323
* 1941 324 خطبات محمود ایسا کہا ہی نہیں۔معمولی معمولی باتوں میں اختلاف ہونا اور بات ہے ایک ایسا یا ایسے اشخاص جنہوں نے تالیف و تصنیف کا کام کیا ہو اور جنہوں نے دس ہیں مرتبہ نہیں بیسیوں مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو خدا تعالیٰ کا نبی اور رسول لکھا ہو اور ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم آپ کو نبی نہیں کہتے رہے، یہ ایسا عظیم الشان انقلاب ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہی ہے۔اس مسئلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تحریروں کو ہم دیکھتے ہیں تو وہ اتنی واضح ہیں کہ کسی جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے کسی حوالہ کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتاب ”تجلیات الہیہ “ کو نکالا، یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے اور نامکمل رہ گئی ہے، اس کے صفحات صرف بتیں ہیں۔میں نے اس وقت خیال کیا اگر حضرت مسیح موعود عليه الصلوة و السلام کی کسی اور کتاب سے استنباط نہ کیا جائے اور صرف اس کتاب کو لیا جائے تو اس چھوٹی سی کتاب سے ہی وہ تمام اختلافی مسائل حل ہو جاتے ہیں جو ہم میں اور غیر مبائعین میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تحریر فرماتے ہیں۔مجھے خدا نے فرمایا ہے کہ چو دورِ خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند 4 یعنی جس جب دورِ خسروی کا آغاز ہو گا تو مسلمانوں کو پھر مسلمان بنایا جائے گا۔اس کی تشریح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔“ دورِ خسروی سے مراد اس عاجز کا عہدِ دعوت ہے مگر اس جگہ دنیا کی بادشاہت مراد نہیں بلکہ آسمانی بادشاہت مراد ہے جو مجھ کو دی گئی۔خلاصہ معنی اس الہام کا یہ ہے کہ جب دورِ خسروی یعنی دورِ مسیحی جو خدا کے نزدیک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جو صرف ظاہری مسلمان