خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 324

* 1941 325 خطبات محمود تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے۔” 5 اب یہ کتنی واضح بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو مجھ پر ایمان لاتے ہیں باقی سب ظاہری مسلمان ہیں اور یہی ہم کہتے ہیں۔یہ تو تو نہیں کہ ظاہری مسلمانوں کو نام کے لحاظ سے ہم مسلمان نہیں کہتے ہم بھی ان کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔چنانچہ میری تحریروں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں مرتبہ یہ آیا ہو گا کہ آجکل مسلمانوں کا یہ حال ہے یا مسلمانوں کی حالت ہے۔پس ہم ان کو مسلمان ہی کہتے ہیں اور جو شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان کہے گا ہم اس کو مسلمان ہی کہیں گے۔سوال صرف یہ ہے کہ آیا وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک بھی مسلمان ہیں یا نہیں؟ یہی بحث ہے جو ہماری طرف سے ہوتی ہے ورنہ جن کو لوگ مسلمان کہتے ہیں یا جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، ہم ان کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور دوسرے مخالف مسلمانوں کو ہم مسلمان کہتے اور مسلمان ہی لکھتے ہیں۔ہم یہ تو نہیں کہتے ہند و ہیں یا عیسائی ہیں یا سکھ ہیں۔پس جس وقت ہم مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں اس لفظ میں ہم ان تمام لوگوں کو شامل کرتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔جس بات میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں آجکل کے مسلمان حقیقی مسلمان نہیں۔خدا کے نزدیک مسلمان نہیں اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں یہاں کسی مکفر، مکذب یا متردد کا سوال نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام صاف طور پر فرماتے ہیں کہ اس وقت دو جماعتیں ہیں۔ایک تو میری جماعت ہے اور وہ ان لوگوں کی ہے جو حقیقی مسلمان ہیں۔اور ایک جماعت دوسرے مسلمانوں ہے جو صرف ظاہری مسلمان ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔“ وہ جو صرف ظاہری مسلمان تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے۔جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔” 6 وہ