خطبات محمود (جلد 22) — Page 287
خطبات محمود 288 * 1941 حصہ انسان ایسی خواہش کے پورا ہونے پر اسی وقت ہنس پڑتا اور ملال جاتا رہتا ہے۔پس اس کے یہ معنی نہیں کہ ایسے انسان کی ہر خواہش پوری ہو جاتی ہے بلکہ صرف وہ خواہشیں پوری ہوتی ہیں جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔تحریک جدید کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ لوگ جو اس کے چندہ میں لیں خدا ان کے ہاتھ بن جائے، خدا ان کے پاؤں بن جائے، خدا ان کی آنکھیں بن جائے، اور خدا ان کی زبان بن جائے اور وہ ان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے ایسا اتصال پیدا کر لیں کہ ان کی مرضی خدا کی مرضی اور ان کی خواہشات خدا کی خواہشات ہو جائیں۔اس عظیم الشان مقصد کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے تم غور کرو کہ جب تمہارا اس تحریک میں حصہ لینے سے مقصد یہ ہے کہ خدا تمہارے ہاتھ بن جائے، خدا تمہارے پاؤں بن جائے، خدا تمہاری آنکھیں بن جائے اور خدا تمہاری زبان بن جائے تو کیا خدا کبھی سست ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اگر تمہارے اندر سستی پیدا ہو گئی ہے تو تمہارا نفل کوئی اچھا نفل نہیں اور اس میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص رہ گیا ہے۔ورنہ یہ کس طرح ممکن تھا کہ نوافل کے ذریعہ خدا تمہارے ہاتھ بن جاتا اور پھر بھی تمہارے ہاتھوں میں کوئی تیزی پیدا نہ ہوتی۔خدا کا طریق تو یہی ہے کہ وہ اپنے کاموں میں جلدی کرتا ہے اور جس کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ فوراً ہو جاتا ہے۔پس جو شخص تحریک جدید کے چندہ میں تو لیتا ہے مگر اس چندہ کی جلد ادائیگی کا فکر نہیں کرتا اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کا فعل ناقص ہے۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ خدا اس کے ہاتھ اور پاؤں بن جاتا اور پھر بھی وہ نیکی میں پیچھے رہ جاتا۔کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے ہاتھ بن جائے اور وہ نیکی میں پیچھے رہ جائے یا خدا کسی کے پاؤں بن جائے اور پھر بھی وہ ثواب کے کاموں کے لئے حرکت نہ کرے اور خدا اس کی زبان بن جائے اور پھر بھی وہ جھوٹا وعدہ کرے۔جس شخص کے ہاتھ اور پاؤں خدا بن جاتا ہے وہ کبھی نیکی میں پیچھے نہیں رہ سکتا اور جس شخص کی زبان خدا بن جاتا ہے وہ کبھی جھوٹا وعدہ