خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 263

1941 264 خطبات محمود یقین رکھتا ہوں کہ مولوی صاحب کی پارٹی کے افراد آہستہ آہستہ میری بیعت میں شامل ہوتے چلے جائیں گے اور اگر وہ نہیں تو ان کی اولادیں ہمارا شکار بنیں گی۔ان سے بظاہر یہ امید کم ہے کہ وہ پھر کسی وقت ہم میں شامل ہو جائیں مگر کیا تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ موت سے پہلے پہلے انہیں بھی ہدایت دے دے اور وہ پھر بیعت میں شامل ہو جائیں۔بہر حال خدا تعالیٰ نے ان کو ہمارا شکار بنایا ہے ہمیں ان کا شکار نہیں بنایا۔یہ الگ بات ہے کہ استثنائی رنگ میں بعض لوگ ہم میں سے نکل کر ان میں شامل ہو جائیں۔ورنہ عام طور پر انہی میں سے نکل نکل کر لوگ ہم میں شامل ہوتے ہیں اور میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ بالمقابل فہرست شائع کر کے دیکھ لیں کہ ہم میں سے زیادہ آدمی ان کی طرف گئے ہیں یا ان میں سے زیادہ آدمی ہماری طرف آئے ہیں۔ان آنے والوں میں سے ایک صاحب ان کے داماد بھی تھے وہ بعد تحقیق میری بیعت میں شامل ہوئے اور میں نے ان کو ہمیشہ یہی نصیحت کی کہ مولوی صاحب سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئیں۔جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی طبیعت میں بعض وجوہ سے جوش تھا مگر میں نے ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرو اور کوئی ایسی بات نہ کرو جس کو دیکھ کر وہ یہ خیال کریں کہ مبائع ہو کر تمہارے اخلاق بگڑ گئے ہیں۔بلکہ ہمیشہ ایسا نمونہ دکھاؤ کہ سمجھنے وہ مجبور ہوں کہ بیعت کے بعد تمہارے اخلاق پہلے سے زیادہ اچھے ہو گئے ہیں۔غرض ان کا ہم پر حملہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ممکن ہے وہ ہمارے چند آدمیوں کو لے جائیں اور ان میں سے کسی کو ملازمت کا اور کسی کو رشتہ کا لالچ دے دیں لیکن بالعموم جماعت ان کو ممنہ بھی نہ لگائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔کیونکہ جس شخص کو خدا کے مامور اور اس کے مرسل کی شناخت نصیب ہو جائے اس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ کبھی دیانتداری کے ساتھ اس راستہ کو ترک کر سکتا ہے بالکل ناممکن ہے۔پر کوئی بدبخت انسان ہی ہو گا۔ازلی بدبخت جو نور کے سرچشمہ پر پہنچ کر پھر گمراہی اور ضلالت کی طرف چلا جائے۔بے شک لالچ، حرص اور قسم قسم کی تاریکیاں انسان کو