خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 240

1941 241 (15) خطبات محمود موجودہ نازک حالات میں ایک پرانی تحریر کے ذریعہ فتنہ پیدا کرنے کی کوشش فرمودہ 23 مئی 1941ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔“انسان کی عقل اور سمجھ کا امتحان ہمیشہ ایسے ہی موقع پر ہوتا ہے جبکہ اس کے جذبات ابھرے ہوئے ہوں۔جذبات کے اشتعال کے موقع پر جو شخص نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور وہ چیز جسے خدا نے اہم بنایا اسے اہم سمجھتا اور جسے خدا نے ادنی بنایا اسے ادنیٰ قرار دیتا ہے، وہی دراصل عقلمند ہوتا ہے۔یہ وقت دنیا کی تاریخ پر ایسا تاریک اور خطرناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا وقت نہیں آیا۔قطع نظر سے کہ کوئی شخص جرمنی کا موید ہے یا برطانیہ کا۔اور جرمنی کی فتح چاہتا ہے یا برطانیہ کی۔کوئی سلیم الفطرت اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ انسانی خون کی ارزانی جو آج ہے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔جرمن ہوں یا انگریز دونوں انسان ہیں اور تمام بنی نوع انسان ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی جرمنی کا ہم خیال ہو اور اس کی فتح چاہے اور کوئی برطانیہ کا ہم خیال ہو اور اس کی فتح کا خواہاں ہو۔لیکن جو بھی سچا انسان ہے وہ خواہ کسی کی فتح کا خواہاں ہو اس خواہش کے ساتھ وہ یہ بھی چاہے گا کہ انسان کی اتنی قربانی نہ ہو جتنی آج ہو رہی ہے۔ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ راہ نما ہے۔آپ کے اعلیٰ اخلاق کا