خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 226

1941 227 خطبات محمود کہ احمدیوں کی بھی عجیب حالت ہے وہ کئی سال سے یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں مسلم لیگ میں شامل ہونا چاہئے یا کانگرس میں۔وہ اخبار نویس لکھتے ہیں جب احمدی ایک واجب الاطاعت امام مانتے ہیں تو اس سے کیوں نہیں پوچھ لیتے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں یا کانگرس میں۔اس پر سوچنے اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔معلوم ہوتا ہے مضمون نگار صاحب کو اس بارہ میں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید میرے منشاء کے بغیر مجلس شوریٰ میں یہ بحث ہو رہی ہے۔حالانکہ یہ بحث میری پریذیڈنٹی اور میری صدارت میں میرے کہنے اور میری اجازت سے ہوتی ہے۔پھر انہیں دوسری غلطی یہ لگی ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جب کسی جماعت کا کوئی واجب الاطاعت امام ہو تو اسے مشورہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔حالانکہ رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں لا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ 5 یعنی کوئی خلافت خلافت نہیں کہلا سکتی جس میں لوگوں سے مشورہ نہ لیا جاتا ہو۔بے شک خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مشورہ کو رد کر دے مگر اسے یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مشورہ لے ہی نہیں۔مشورہ کے صرف یہی معنے نہیں ہوتے کہ امام ان کی بات کو مان لے بلکہ مشورہ سے قوم کی دماغی حالت ترقی کرتی ہے۔آخر رسول کریم صلی علیکم سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے علم پانے والا اور کون ہو سکتا ہے۔آپ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے تھے اور وحی الہی آپ کی راہنمائی فرماتی تھی مگر اس کے باوجود آپ بھی مشورہ لیا کرتے تھے اب کیا اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ ایک رسول موجود ہے اور وہ بھی ایسا رسول جو تمام رسولوں کا سردار ہے اور خدا تعالیٰ کا آخری ہدایت نامہ اسی کے ذریعہ دنیا تک پہنچا ہے مگر پھر بھی وہ لوگوں سے مشورہ لیتا ہے۔تاریخ میں ایسے کئی امور موجود ہیں جن میں رسول کریم صلی الم نے لوگوں۔مشورہ لیا اور بعض دفعہ تو مشورہ کو آپ نے اتنی اہمیت دی کہ اپنے منشاء کے خلاف عمل کیا۔مثلاً جنگ احد سے پہلے رسول کریم صلی الیم نے ایک خواب دیکھا جس کے معنے آپ نے یہ سمجھے کہ اس موقع پر ہمیں باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ اس پر