خطبات محمود (جلد 22) — Page 225
1941 226 خطبات محمود کی بات ہے۔اگر وہ اس کو سمجھ لیں تو خود فائدہ اٹھائیں گے اور اگر نہیں سمجھیں گے تو یہ اس بات کا ایک ثبوت ہو گا کہ ان کا احمدیت کا دعویٰ محض جھوٹا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ہرگز احمدی نہیں۔میں نے دیکھا ہے جب میں کسی شخص کو کسی دینی نقص کی وجہ سے جماعت سے خارج کر دیتا ہوں تو وہ میری منتیں کرنے لگ جاتا ہے اور خط پر خط آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ مجھے دوبارہ جماعت میں شامل کر لیا جائے حالانکہ میرا نکالا ہوا تو ہو سکتا ہے کہ خد اکے حضور جماعت میں شامل ہو اور میں نے غلط فہمی سے اسے نکال دیا ہو مگر کیسا بدقسمت ہے وہ انسان جس کا نام خدا کی درگاہ میں تو احمدیت کی لسٹ میں سے کٹا ہوا ہے مگر وہ اپنے آپ کو احمدی ہی سمجھتا ہے۔پس تو بہ کرو اور اپنی اصلاح کرو اور آج سے یہ قطعی فیصلہ کرلو تم نے مسجد میں آنے سے نہیں رکنا۔اگر تمہارا کوئی دشمن اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے تو خدا کے حضور اپنی نیکیاں اس کی نیکیوں سے زیادہ کرنے کے لئے تمہیں تو چاہئے کہ اگر وہ ایک دفعہ مسجد میں نماز کے لئے آتا ہے تو تم دفعہ آؤ۔اگر وہ ظہر میں آتا ہے تو تم ظہر میں بھی آؤ اور عصر میں بھی آؤ اور اگر ظہر اور عصر میں آتا ہے تو تم ظہر میں بھی آؤ ، عصر میں بھی آؤ اور مغرب میں بھی آؤ۔اور اگر وہ ظہر، عصر اور مغرب تین نمازیں مسجد میں پڑھتا ہے تو تم ظہر، عصر، مغرب اور عشاء چار نمازیں مسجد میں پڑھو۔اور اگر وہ چار نمازیں مسجد میں تم پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھو۔اور اگر وہ پانچوں نمازیں مسجد میں پڑھتا ہے تو تم تہجد بھی مسجد میں آکر پڑھا کرو تاکسی طرح تم خدا کے حضور اس سے بڑھ جاؤ اور خدا کے فضلوں کے اس سے زیادہ وارث بن جاؤ۔لیکن اگر وہ تو مسجد میں آتا رہے اور تم مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دو تو یہ اپنے ہاتھ سے اپنا ناک کاٹ لینے والی بات ہو گی۔اس طرح تو اس نے دنیا میں بھی تمہیں دکھ دے لیا اور جنت میں بھی اپنا گھر بنا لیا۔پس وہ جیتا یا تم جیتے؟ وہ ہے رو تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہی ایک اخبار میں میں نے پڑھا ہے