خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 224

1941 225 خطبات محمود نکالنا چاہے تو پھر بھی تم نہ نکلو اور اگر کوئی سیکرٹری یا قاضی یا محتسب یا پریذیڈنٹ تمہیں دھکے دے کر بھی مسجد سے نکالنا چاہے تو تم اس کے آگے ہاتھ جوڑو اور کہو کہ میں ہر ذلّت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں مگر خدا کے لئے تم مجھے مسجد سے نہ نکالو۔جب تم مسجدوں کے ساتھ اس رنگ میں اپنی محبت کا اظہار کرو گے اور جب ہر دکھ اور ہر درد تم بخوشی برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے مگر مسجد سے علیحدگی ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرو گے تب بے شک قیامت کے دن خدا تمہیں جنت میں داخل کرے گا اور اس قاضی یا محتسب یا سیکرٹری کو اپنی جنت سے نکال دے گا جس نے تمہیں مسجد سے دھکے دے کر باہر نکالا ہو گا۔مگر وہ شخص جو کسی کے ساتھ عداوت رکھنے کی وجہ سے مسجد میں نہیں جاتا وہ اپنے دشمن کے لئے تو جنت کے دروازے کھولتا ہے اور اپنے لئے دوزخ کے۔گویا اس کا دشمن دونوں طرح فائدہ میں رہا۔اس جہان میں بھی اس نے اسے دکھ پہنچالیا اور اگلے جہان میں بھی جنت لے لی۔لیکن یہ اس جہان میں بھی مسجد سے باہر رہا اور اگلے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کی جنت کا مستحق نہیں بن سکے گا۔پس ہر وہ شخص جو دوسرے شخص کو سوائے اس کے کہ کسی فتنہ یا خونریزی یا لڑائی کا اندیشہ ہو مسجد سے نکالتا ہے وہ اپنے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کرتا ہے لیکن وہ شخص جو کسی کی عداوت کی وجہ سے مسجد میں نہیں جاتا وہ اپنے لئے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کرتا ہے اور دوسرے کے لئے اس کی رحمت کے دروازے کو کھولتا ہے۔پس میں مسجد فضل سے تعلق رکھنے والے تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں۔شکایت کرنے والے دوست نے لکھا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے پاس واعظوں کو بھی لے گئے مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔میں کہتا ہوں کہ اس معاملہ میں واعظوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی یہ تو ایسی یز تھی کہ اگر کوئی واعظ اس سے روکتا تب بھی وہ اس کا مقابلہ کرتے۔کُجا یہ کہ واعظ کہتا اور وہ اس کی بات کو ماننے سے انکار کر دیتے۔بہر حال یہ انہیں کے فائدہ 2