خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 203

1941 204 خطبات محمود ہوتی ہو تو اُڑ جاؤں؟ بیل نے کہا مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں لگا کہ تم بیٹھے کب ہو۔یہی حالت ہماری ہے ہمارا کھڑا ہونا اور بیٹھنا کسی کو محسوس بھی نہیں ہوتا۔اس لئے کہ ہمارا جتھہ کوئی نہیں۔دنیا جس چیز کا ادب و احترام کرتی ہے وہ ہمارے پاس نہیں۔دنیا میں یا تو طاقت اور قوت کا احترام کیا جاتا ہے اور یا پھر جتھوں کا۔جتنے والی قومیں بھی جب کھڑی ہو جائیں تو حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر دیتی ہیں مگر ہمارے پاس تو یہ بھی نہیں اس لئے ہمارا ہتھیار صرف دعاؤں کا ہی ہتھیار ہے اور ہمیں دعاؤں پر خاص زور دینا چاہئے۔ہمارا واحد ہتھیار دعا ہے اور جس شخص کے پاس ایک ہی ہتھیار ہو وہ اگر اسے بھی پھینک دے تو اس سے زیادہ بدنصیب اور کون ہو سکتا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تُخُذُوا حِذْرَكُمْ 5 یعنی اپنے ہتھیار ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرو۔جن کے پاس تلواریں اور بندوقیں ہیں ان کو تلواریں اور بندوقیں اپنے پاس رکھنے کا حکم ہے لیکن جن کے پاس یہ نہیں ان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ ہتھیار اسی صورت میں مفید ہوتا ہے جب اسے استعمال کیا جائے۔کسی شخص کے پاس اگر اچھی سے اچھی تلوار ہو لیکن وہ اسے دور پھینک دے اور دشمن حملہ کرے تو وہ تلوار اسے کیا فائدہ دے سکتی ہے؟ کسی کے پاس بہت اعلیٰ بندوق ہو لیکن وہ غلافوں میں بند گھر میں پڑی ہو اور ڈاکو اسے جنگل میں گھیر لیں تو وہ بندوق اس کے کس کام کی؟ اسی طرح کسی کے پاس تو ہیں اور ہوائی جہاز بھی ہوں لیکن وہ صندوقوں میں بند ہوں اور ان کو استعمال میں نہ لایا جائے تو ان کا کیا فائدہ؟ اسی طرح دعا ، گو ایک زبردست ہتھیار ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ مانگی جائے۔جس طرح تلوار، بندوق، توپ وغیرہ ہتھیاروں کے لئے ضروری ہے ان کو استعمال کیا جائے۔جس طرح ہم اُس وقت مفید ہو سکتے ہیں جب وہ دشمن پر پھینکے جائیں اسی طرح دعا بھی اسی وقت کام دے سکتی ہے جب وہ مانگی جائے۔