خطبات محمود (جلد 22) — Page 204
1941 205 خطبات محمود صرف منہ سے کہتے رہنا کہ ہمارے پاس دعا کا ہتھیار ہے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ رات دن دعاؤں میں لگے رہیں۔دن بہت نازک ہیں ایسے نازک کہ اس سے زیادہ نازک دن دنیا پر پہلے کبھی نہیں آئے اور پھر ہمارے جیسی نہتی اور کمزور قوم کے لئے تو یہ بہت ہی نازک ہیں۔ایک جہاز بھی اگر آکر بم پھینکے تو ہم تو اس کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔کیا ہم اس پر تھوکیں گے؟ موجودہ جنگ کی تباہی و بربادی کا ایک نیا پہلو ہمارے سامنے آیا ہے۔یعنی بلگریڈ 6 کی بربادی، کئی لاکھ کی آبادی کا شہر 24 گھنٹوں کے اندر اندر تباہ ہو گیا اور وہاں سوائے لاشوں اور اینٹوں کے ڈھیروں کے کچھ نظر نہیں آتا۔ایک بچہ سوراخ سے سر نکال کر دیکھتا ہے کہ میرے ماں باپ کہاں ہیں مگر اسے ہر طرف سوائے اینٹوں کے ڈھیر کے کچھ نظر نہیں آتا۔عورتیں جھانکتی ہیں کہ ہمارے خاوند یا باپ یا بھائی کہاں ہیں مگر سوائے تباہ شدہ مکانوں اور عمارتوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔میلوں میں آباد شہر اب سوائے کھنڈرات کے کچھ نہیں۔اس زمانہ میں انسان کی طاقت مقابلہ کی حیثیت ہی کیا رہ گئی ہے؟ اور جب لاکھوں انسانوں کی آبادیوں والے شہر اس طرح اڑ سکتے ہیں تو گاؤں کا ذکر ہی کیا؟ ایسے ایسے بم ایجاد ہو ہیں جو دو دو سو بلکہ چار چار سو گز تک مار کر جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں اتنے بڑے گاؤں کتنے ہیں؟ بالعموم ایسے چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں کہ ایک ایک بم سے اڑ جائیں نہ کسی انسان کا پتہ لگے اور نہ کوئی جانور باقی رہے۔چکے پس یہ ایسے خطرناک حالات ہیں کہ اب بھی جو شخص اس واحد ہتھیار کو جو ہمارے پاس ہے استعمال نہ کرے اس سے زیادہ غافل کون ہو سکتا ہے؟ پس دن رات یہی فکر رہنا چاہیئے، دل پر ایسا بوجھ ہو کہ اضطرار کی حالت طاری ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو سن لے۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ غفلت اور سنگدلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بعض لوگ ایسے مزے لے لے کر جنگ کی خبریں بیان کرتے ہیں کہ گویا دنیا پر کوئی آفت آئی ہی نہیں۔بڑے مزے سے بیان کرتے ہیں کہ