خطبات محمود (جلد 22) — Page 178
* 1941 179 خطبات محمود وہ بے حیا ہو جائے گا۔کبھی سزا نہ دینے سے ہی کسی کی اصلاح ہو سکتی ہے اور کبھی دینے سے ہو سکتی ہے۔اس لئے جیسا موقع مناسب ہو کیا جاتا ہے اور جب تک کسی کو حکومت نہ مل جائے ان مصلحتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ہاں جن جرائم کی حدیں شریعت نے مقرر کر دی ہیں ان کے متعلق اور صورت ہے۔مگر ان میں بھی تمام شرائط کو جو شریعت نے رکھی ہیں مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایک جرم کے اثبات کے لئے شریعت نے اگر چار گواہ ضروری قرار دیئے ہیں تو دو ہونے کی صورت میں سزا نہیں دی جا سکتی۔خواہ وہ دو کتنے ہی بڑے پارسا اور نیک کیوں نہ ہوں اور جہاں وہ گواہ ضروری ہیں وہاں ایک کی گواہی پر سزا نہیں دی جا سکتی خواہ وہ کتنا بڑا متقی کیوں نہ ہو۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اتنے بڑے معتبر کی بات بھی نہیں مانی جاتی۔ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ سب سے بڑا معتبر خدا ہے اور اس ہے کہ اس موقع پر ایک معتبر کی مانو۔پس خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اس کی بات کیسے مان لی جائے۔پس اگر کوئی اپنے آپ کو بڑا معتبر سمجھتا ہے تو وہ اپنے گھر ہو گا۔میرے نزدیک سب سے معتبر خدا ہے اور جب اس نے حکم دیا ہو کہ فلاں موقع پر چار کی گواہی مانو تو دو خواہ سورج کی طرح روشن اور آسمان کے تارے کیوں نہ ہوں میں ان کی بات کیسے مان لوں اور جہاں اس نے دو کی گواہی ضروری ہے وہاں ایک کی نیکی خواہ زمین و آسمان پر حاوی کیوں نہ ہو میں اس کی گواہی نہیں مان سکتا۔پس ایسے امور کے سوا جن میں بعض شرائط کے موجود ہونے کی صورت میں شریعت نے خاص سزا مقرر کر دی ہے باقی امور میں سزا دینا یا نہ دینا خلیفہ کا اختیار ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کے لئے یا سلسلہ کے مفاد کے لئے کسی کو چھوڑتا ہے تو اس پر اعتراض کرنے والا نادان ہے۔ہاں اگر میں ذاتی طور پر کسی سے ڈر کر چھوڑتا ہوں تو بھی ان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے اوپر مجھ بہت بڑا حاکم ہے جس کے سامنے مجھے جواب دینا ہو گا مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے کبھی ذاتی طور پر یا کسی سے ڈر کر کسی کو نہیں چھوڑا۔ہاں رکھی سے