خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 171

1941 172 خطبات محمود اگر کوئی دوسرا عمل نہیں کرتا تو خود کیوں نہ کریں؟ یہ احکام دوسروں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمارے لئے بھی ہیں۔اگر تو آپ کا یہ حکم ہوتا کہ ضرور چھوٹا سلام کرے بڑا نہ کرے تو ہم مجبور ہوتے کہ عمر یا درجہ یا علم میں جو چھوٹا ہو اس کو سلام نہ کرنے پر پوچھیں کہ تم نے کیوں عمل نہیں کیا۔مگر جب چھوٹے بڑے سب کے لئے یکساں حکم ہے تو یہ کیوں امید رکھیں کہ دوسرا کرے ہم نہ کریں۔نیکی میں خود ابتدا کیوں نہ کریں؟ صحابہ تو نیکی میں پہل کرنے کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام حسن اور امام کسی بات پر آپس میں لڑ پڑے۔دونوں بھائی بھائی تھے مگر بعض دفعہ کوئی ہو جھگڑے کی بات ہو جاتی ہے حضرت امام حسین کی طبیعت تیز تھی ان سے سختی گئی اور امام حسن برداشت کر گئے۔رات کو کسی ذکر پر ایک صحابی نے بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی الم سے سنا ہے کہ اگر کوئی اپنے بھائی سے صلح کرنے میں پہل کرے تو وہ پانسو سال پہلے جنت میں جائے گا۔یہ بات سنتے ہی حضرت امام حسن ٹھے اور راتوں رات امام حسین کے مکان پر پہنچے اور دستک دی۔امام حسین باہر آئے اور پوچھا کہ بھائی اس وقت کیسے آئے۔امام حسن نے کہا کہ معافی مانگنے آیا ہوں۔یہ سن کر ان کے دل میں بھی ندامت محسوس ہوئی اور کہا کہ معافی تو مجھے مانگنی چاہئے تھی مگر امام حسن نے کہا کہ ابھی میں نے یہ حدیث سنی تھی اور مجھے خیال آیا کہ سختی بھی آپ نے کی تھی اب ایسا نہ ہو کہ معافی مانگنے کا ثواب آپ ہی لے جائیں۔اس لئے میں معافی مانگنے آ گیا ہوں۔تو نیکی اس طرح قائم نہیں ہو سکتی کہ جہاں دونوں کو حکم ہو وہاں بھی ہم دوسرے کو پکڑ کر کہیں کہ تم نے اس حکم عمل کیوں نہیں کیا اور خود نہ کریں۔قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ يُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا مَا لَمْ يَفْعَلُوا 2 کہ وہ ایسی تعریف کرانا چاہتے ہیں جس پر خود عمل نہیں کرتے۔دوسرے پر بھی اسی بات کا اثر ہو سکتا ہے جس پر اپنا عمل اگر کوئی غریب آدمی کسی امیر کو کہے کہ آپ زکوۃ کیوں نہیں دیتے تو وہ یہ نہیں ہو۔