خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 170

1941 خطبات محمود ایک شخص 171 بلکہ بعض دفعہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ کوئی پاس سے گزر گیا ہے اور جب ہم اپنے خیال میں بعض دفعہ گزر جاتے ہیں اور دوسرے کو دیکھتے بھی نہیں تو دوسرے کے متعلق یہ خیال کیوں نہ کریں کہ وہ بھی اپنے خیال میں گزر گیا ہو گا۔میں نے دیکھا ہے کہ میں سیر کے لئے جاتا ہوں تو کئی دفعہ بعض لوگ پاس سے گزرجاتے ہیں اور مجھے پتہ بھی نہیں لگتا اور کسی کے بتانے سے علم ہوتا ہے کہ فلاں شخص گیا ہے۔اگر میری یہ حالت ہو سکتی ہے تو دوسرے کی بھی ہو سکتی ہے۔یہ خیال کرنا کہ دوسرا ضرور سلام کرے ورنہ وہ گستاخ ہے بے وقوفی کی بات ہے۔اس صورت میں ناظر خود ہی سلام کیوں نہ کر دیں اور اس طرح دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔یہاں تھا جو دماغی مریض تھا اور اسے یہ خیال تھا کہ میں بڑا آدمی ہوں اور کسی کو سلام نہیں کہتا تھا۔بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ کسی کو سلام نہیں کہتا تو میں نے ان سے کہا کہ تم خود اسے کیوں سلام نہیں کہہ دیتے۔میں نے پہلے تو اس بات کا کوئی خیال نہ کیا تھا مگر اس شکایت کے بعد غور کیا تو دیکھا کہ وہ میرے پاس سے بھی گزرا اور سلام نہ کہا اس پر میں نے یہ کیا کہ جب وہ میرے سامنے آتا میں خود السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور تین چار بار ایسا کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ جو نہی سامنے آتا فوراً السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ دیتا۔تو اگر کوئی شخص سلام نہیں کہتا تو ناظر خود کیوں نہ اسے سلام کہیں۔خدا تعالیٰ نے ہم کو معلم بنایا ہے اور ہمارا کام یہ ہے کہ دوسروں کو اخلاق سکھائیں۔یہ کیا کہ کوئی سلام نہ کرے تو اسے پکڑیں کہ کیوں تم نے سلام نہیں کیا۔یہ شکایت صحیح ہے تو اسے میں ناظر کی غلطی سمجھتا ہوں اور یہ ایسی غلطی ہے کہ اس خطبہ کو پڑھتے ہوئے بھی مجھے تو شرم سے پسینہ آ گیا کہ اسے یہ ضرورت کیونکر ہوئی کہ کسی سے ایسی بات کہے۔یہ توایسی ہی بات ہے جیسے کسی سے کہا جائے کہ میری دعوت کرو۔یہ نہایت ادنی اور ذلیل بات ہے اور اس معاملہ میں ناظر کی اتنی غلطی ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے بھی مجھے ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ نام کے احکام سب کے لئے یکساں طور پر واجب العمل ہیں۔T محسوس