خطبات محمود (جلد 22) — Page 146
1941 147 خطبات محمود جنگ ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی۔دو ایسی حکومتوں کا آپس میں مل جانا اور ان کا اپنے نظاموں کو بدل کر ایک ہو جانا جو دنیا کی سب سے بڑی حکومتیں سمجھی جاتی یں کسی انسان کے خیال اور واہمہ میں بھی آنے والی بات نہیں تھی۔یہ ایسے ہی حالات میں ہو سکتا تھا جو نہایت خطرناک ہوں۔اور جب انسان باقی تمام جذبات اور احساسات کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور صرف یہی بات اس کے سامنے رہے کہ کسی طرح جان بچ جائے۔میں نے جب اس چٹھی کو پڑھا تو رویا میں ہی میں سخت گھبرا گیا مگر اسی حالت میں یکدم مجھے آواز آئی کہ یہ چھ مہینے پہلے کی بات ہے یعنی اس حالت کے چھ ماہ بعد حالات بدل جائیں گے۔جب میں نے یہ رؤیا دیکھی تو اس وقت لوگوں کو ابھی تک جنگ کے شروع ہونے کے متعلق بھی یقین نہیں آتا تھا اور لوگ عام طور پر سمجھتے تھے کہ ہٹلر ڈراوے دے رہا ہے۔اس کے بعد جنگ شروع ہوئی۔مارچ تک کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ہٹلر غالب آ جائے گا۔بالعموم یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ برابر کی ٹکر ہے۔بے شک پولینڈ مٹ چکا تھا مگر فرانس کے ساحلوں پر نہ یہ آگے بڑھ رہے تھے نہ وہ۔بعض جگہ فرانسیسی اگر میل دو میل آگے بڑھتے تو جرمن بھی ایک میل آگے نکل آتے۔اس طرح دونوں میں ایک رنگ کی مساوات رہتی تھی کوئی رو نمایاں تغیر پیدا نہیں ہوتا تھا۔عام طور پر ایسا ہی ہوتا تھا کہ پہلے میل دو میل علاقہ فرانس والوں نے لے لیا اور پھر جرمنی نے مقابلہ کر کے اسے واپس لے لیا یا ایک دو میل میل علاقہ ان کے ہاتھ سے گیا تو اتنا ہی علاقہ جرمنی کے ہاتھ سے نکل گیا۔اور ایسے ممالک جو ہزاروں لاکھوں مربع میل کے رقبہ میں ہوں ان میں سے ایک دو علاقہ کا چلے جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی بلکہ اتنا علاقہ تو بعض دفعہ خود ملک والے ہی چھوڑ دیتے ہیں تاکہ فوجیں آسانی سے حرکت کر سکیں۔بہر حال مارچ کے آخر تک یہی حالت رہی۔اس کے بعد جرمنی نے نہایت شدت سے حملہ کیا اور ڈنمارک، ناروے، اور پھر ہالینڈ اور بیلجئم پر قبضہ کر لیا۔پھر وہ فرانس کی طرف بڑھا اور اسے بھی