خطبات محمود (جلد 22) — Page 142
1941 143 خطبات محمود اس کی ایک ہی غرض معلوم ہوتی تھی کہ جس قدر عیسائی سواروں کو مار سکے مار دے۔اسے فتح کا خیال نہ تھا اسے صرف دشمن کو مارنے کا خیال تھا۔قریباً آدھا دستہ سواروں کا اس نے مار گرایا آخر سخت زخمی ہوا اور اس کا گھوڑا بھی زخمی ہو کر گر گیا لیکن وہ پھر بھی لڑتا رہا اور زمین پر گرا ہوا گھٹنوں کے بل اس نے لڑائی جاری رکھی اور آخر جب بالکل چور ہو گیا تو دریا میں کود کر ڈوب گیا۔یہ ماننا کہ موسیٰ دریا میں خود گودے ناممکن ہے کیونکہ مسلمان خود کشی کو جائز نہیں سمجھتے۔پس بات یہ معلوم ہے کہ یا تو وہ تڑپ کر گر گئے یا ذلیل مسیحی سپاہیوں نے اُن کو غصہ میں دریا جاری رہے میں دھکیل دیا۔یہ تھا سپین کا آخری مخلص جس نے آرام کے دنوں میں ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہ رکھا بلکہ مصیبت کے وقت بھی اُس کو نہ چھوڑا۔خدا تعالیٰ کی رحمت اس اسلام کے سپاہی پر ہو۔مسلمان بادشاہوں کو بھول سکتے ہیں مگر اسلام کے اس بہادر سپاہی کو نہیں بھول سکتے۔جب تک ایک سچے مسلمانوں کی رگوں میں ایمان کا خون جاری ہے اس وقت تک موسیٰ بن غسان کا ذکر بھی نیکی اور دعا کے ساتھ گا۔ایسے ہی لوگوں کے حالات نوجوانوں کے اندر ہمت اور عزم پیدا کرتے ہیں اور میں جماعت کے نوجوانوں سے خصوصاً اور دوسرے احباب سے عموماً یہ کہوں گا کہ اعلیٰ درجہ کا خلق یہی ہے جس کی مثال موسیٰ نے پیش کی اور وہ اسے اپنے اندر پیدا کریں۔خوشی اور مصیبت دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔رسول کریم صلی کم تو صحابہ سے بیعت میں یہ عہد لیتے تھے کہ عُسر اور ٹیسر ا دونوں حالتوں میں فرمانبرداری کروں گا اور یہی سچا ایمان ہے اور جس کے اندر یہ نہیں وہ منہ سے تو مومن ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے مگر حقیقت میں وہ ایماندار (الفضل 27 مارچ 1941ء) نہیں ہے۔دو 1 البقرة: 246 2 یہ حضرت خباب بن الارت تھے۔الاستیعاب جلد 2 صفحہ 21-22 مطبوعہ بیروت 1995ء 3 یہ مقدمہ 28 جنوری 1903ء کو رائے سنسار چند مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر ہوا