خطبات محمود (جلد 22) — Page 135
1941 خطبات محمود 136 کوئی عذر پیش کر دیتا آپ ہاتھ اٹھا کر اس کے لئے دعا کر دیتے اور اسے رخصت دیتے۔میں بھی پہنچا تو جو صحابی پہرے پر تھے ان سے دریافت کیا کہ اب تک کیا ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح لوگ جاتے ہیں عذر پیش کر دیتے ہیں رسول کریم صل الالم ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور پھر رخصت کر دیتے ہیں۔یہ سن کر میرے دل میں خیال آیا کہ یہ تو چھٹکارے کی آسان راہ ہے۔میں بھی کوئی عذر کر دوں گا مگر پھر خیال آیا کہ معلوم کروں کہ کوئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے عذر نہ کیا ہو۔میں نے پوچھا تو اس صحابی نے بتایا کہ ہاں فلاں فلاں دو شخص ایسے ہیں جنہوں نے کوئی عذر نہیں کیا اور کہہ دیا ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی اور ہم قصور وار ہیں اور میں نے دیکھا کہ وہی دو مخلص تھے۔باقی عذر کرنے والے سب ایسے تھے جن کو ہم پہلے ہی منافق سمجھتے تھے اور میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ میں بھی مخلصین کے ساتھ رہوں گا۔چنانچہ میں پیش ہوا۔آنحضرت صلی اللہ نیلم نے فرمایا۔مالک تم بھی نہیں گئے۔کیا عذر تھا۔میں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! کوئی عذر نہ تھا۔صرف نفس کا دھوکا تھا۔آپ نے فرمایا تم ٹھہر و تمہارے متعلق بعد میں فیصلہ کیا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف شخص کے مطابق آپ نے ان تینوں کے بائیکاٹ کا اعلان فرمایا اور حکم دیا کہ کوئی ان سے سلام کلام نہ کرے۔پھر کچھ دن کے بعد حکم دیا کہ ان کی بیویاں بھی ان سے قطع تعلق کر لیں۔مالک کہتے ہیں کہ میری بیوی نے کہا کہ فلاں کی بیوی نے اجازت لے لی ہے تم کہو تو میں بھی لے آؤں۔میں نے کہا کہ وہ تو کمزور اور بیمار ہے اس وجہ سے اس کی بیوی نے اجازت لی ہے۔میں کوئی اجازت لینا نہیں چاہتا اور چونکہ خطرہ ہے کہ کسی وقت تم مجھے بلا لو یا میں تمہیں بلا لوں اس لئے تم اپنے میکے چلی جاؤ تا یہ حکم پوری طرح ادا ہو سکے۔وہ کہتے ہیں میرے دل میں ایک درد تھا، دکھ تھا کہ منافق تو سزا سے بچ گئے اور ہمیں سزا مل گئی۔کہیں یہ تو بات نہیں کہ ہم پر بہت بڑے منافق ہونے کا شبہ ہو۔میرا ایک رشتہ دار تھا اور ہم دونوں میں باہم اس قدر محبت تھی کہ اکٹھے ہی کھانا کھاتے اور اکثر اکٹھے رہتے تھے۔ایک دوسرے سے