خطبات محمود (جلد 22) — Page 134
1941 135 خطبات محمود نہ کھایا مگر جب دیکھا کہ مار پڑنے لگی ہے تو جھٹ کھا لیا اور اس دن سے خوش رہنے لگا۔تو بعض طبائع مار کے آگے جھکتی ہیں اور بعض پیار کے آگے مگر یہ دونوں طاقتیں نیکی نہیں کہلا سکتیں۔یہ فطرت کی مختلف حالتیں ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ اپنا محسن سمجھتا اور خواہ وہ پیار کرے یا ناراض ہو اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا تو ہے۔کیونکہ اس نے دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق ثابت کر دیا۔رسول کریم صلی ال نیم کے زمانہ میں ایک دفعہ منافقین کی طرف سے یہ افواہیں بہت پھیلائی گئیں کہ روما کا قیصر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے فوجیں جمع کر رہا ہے۔ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ سن کر رسول کریم صلیا اور اس کے مقابلہ کے لئے جائیں گے اور جاتے ہی حملہ کر دیں گے اور اس طرح مسلمانوں اور رومیوں میں زور سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔یہ منافقین کی ایک شرارت تھی۔رسول کریم صلی ا تم کو افواہیں پہنچیں تو آپ نے حکم دیا کہ بجائے اس کے کہ رومی ہم پر چڑھ آئیں اور حملہ کر دیں ہمیں چاہئے کہ سرحد پر ہی جا کر ان کو روکیں۔آپ نے مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا۔حکم بڑا سخت تھا کہ کوئی پیچھے نہ رہے۔میں ہزار کے قریب تیار ہوا جسے لے کر آپ روانہ ہوئے۔سب مسلمان ساتھ گئے صرف منافقین پیچھے رہ گئے یا تین مسلمان۔ان میں سے ایک اپنا واقعہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ میں تیاری کر لوں۔رسول کریم صلی و کم تو فوراً چل پڑے تھے مگر میں نے سمجھا میں امیر آدمی ہوں سامان رکھتا ہوں کل چلوں گا تو جا ملوں گا۔دوسرے روز بھی اسی خیال میں رہا کہ کیا ہے۔کل چل کر بھی مل سکتا ہوں مگر تیسرے دن بھی نہ جا سکا اور چونکہ حالات خطرناک تھے۔رسول کریم صلی ا لم اس قدر تیزی سے بڑھتے جاتے تھے کہ تین دن کے بعد میں نے سمجھا کہ اب نہیں مل سکتا اور رہ گیا۔رسول کریم صلی السلم واپس تشریف لائے تو جو لوگ نہیں گئے تھے ان کی حاضری کا حکم دیا۔ایک ایک غیر حاضر آپ کے سامنے جاتا۔آپ نہ جانے کی وجہ پوچھتے وہ