خطبات محمود (جلد 22) — Page 133
1941 134 خطبات محمود بھی وہیں تشریف رکھتے تھے۔بڑے جوش سے کہا کہ کیا میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں۔گویا جو شخص محبت سے پاخانہ تک اٹھا دیتا تھا جب اسے خطاب کرتے وقت حکومت کا رنگ آیا تو اس کی فطرت نے بغاوت کی اور اس نے بڑے جوش سے کہا کہ کیا میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں۔اس کے بالمقابل بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں محبت سے نہیں مانتے۔مگر جب ان کو مارا جائے تو بڑے فرمانبردار ثابت ہوتے ہیں۔مگر جو نہی ان سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے فوراً بگڑ جاتے ہیں۔اس کی بھی ایک مثال مجھے یاد آگئی ہے وہ شخص ابھی زندہ ہے جب وہ بچہ تھا اور غالباً یتیم تھا۔ہمارے نانا جان مرحوم اس جوش میں کہ اسے پالیں گے اور اس طرح ثواب حاصل کریں گے اسے گھر میں لے آئے۔اور باوجودیکہ آپ کی طبیعت بڑی جو شیلی تھی ثواب حاصل کرنے کے شوق میں اس کی بہت خاطر و مدارت کرنے لگے۔اسے کھلائیں، پلائیں، اس کے لئے بستر کریں اور پھر اسے سلائیں۔ایک دو روز تو وہ ٹھیک طرح کھاتا پیتا رہا مگر تیسرے چوتھے روز اس نے بگڑنا شروع کیا۔میر صاحب مرحوم اسے کہیں کھانا کھا لو تو وہ کہے میں نہیں کھاؤں گا۔نماز کے لئے چلو تو کہے جاؤں گا حتی کہ اس نے کھانا چھوڑ دیا۔اب میر صاحب مرحوم کھانا لے کر بیٹھے ہیں کہ میاں کھا لو بڑی خوشامد کر رہے ہیں مگر وہ یہی کہتا جاتا ہے کہ نہیں میں نہیں کھاؤں گا۔شام کے کھانے کا وقت اس طرح گزرا اور اس نے نہ کھایا۔صبح ہوئی تو پھر آپ نے اسی طرح اس کی خوشامد شروع کی کہ میاں فضل الہی کھانا کھا لو تمہیں اچھے اچھے کپڑے بنوا دیں گے، یہ لے دیں گے، وہ لے دیں گے مگر اس نے ایک نہ مانی اور اپنی ضد پر اڑا رہا۔اور اس طرح دوسرا وقت بھی فاقہ سے ہی رہا۔تیسرا وقت آیا تو پھر یہی حالت رہی۔بہت منت خوشامد کی مگر اس نے ایک نہ مانی۔نانا جان مرحوم کی طبیعت جو شیلی تو تھی ہی آخر ان کو جلال آگیا اور انہوں نے سوئی لے کر کہا کہ کھاتا ہے یا نہیں؟ جب اس نے دیکھا کہ آپ مارنے لگے ہیں تو جھٹ کہنے لگا کہ میں کھانا کھا لیتا ہوں۔تین وقت کی منت و سماجت سے تو نہیں