خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 120

$1941 120 خطبات محمود بھجوا دیا۔وہ کہنے لگا پاگل : ہوئے ہو یہ تو میرے ملازم بھی نہیں کھاتے۔اس نے کہا ڈاکٹر صاحب نے آپ کے لئے یہی کچھ بھیجوایا ہے۔خیر تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر آیا تو اس سے کہنے لگا۔ڈاکٹر صاحب آپ نے یہ میرے لئے کیا بھجوا دیا؟ اس نے کہا صاحب گھبرائیے نہیں اور یہی کھا لیجئے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ابھی تو پہلا دن ہے۔خیر اس نے وہ ٹوسٹ کھایا اور پھر ڈاکٹر اسے اپنے ساتھ ایک کمرہ میں لے گیا اور کھڑا کر کے جلدی سے باہر نکل کر دروازہ بند کر لیا وہ کمرہ جس میں اس نے اسے کھڑا کیا حمام تھا۔تھوڑی ہی دیر میں حمام گرم ہونے لگا اور اس نے اپنے پاؤں اٹھانے شروع کر دیئے۔کبھی ایک پاؤں اٹھاتا اور کبھی دوسرا اور جب فرش بہت زیادہ گرم ہو گیا تو بے اختیار اچھلنے کودنے لگ گیا اور آخر تھک کر اور نڈھال ہو کر فرش پر گر گیا۔ڈاکٹر نے دروازہ کھولا اور اسے باہر نکال دیا۔وہ گالیاں دینے لگ گیا مجھے تم نے مار ڈالا ہے۔مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور وہ روزانہ ایک طرف اسے فاقہ سے رکھتا اور دوسری طرف حمام میں کھڑا کر دیتا اور وہ خوب اچھلتا کودتا۔مہینہ ختم ہوا اور اس کے نوکر آئے تو وہ بغیر اجازت لئے ان کے ساتھ چلا گیا اور سیدھا اس ڈاکٹر کے پاس پہنچا جس نے اسے اس ڈاکٹر کے پاس آنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا کہ تو نے مجھ سے بڑا فریب کیا جو ایسے ظالم قصاب کے پاس مجھے بھیج دیا۔وہ بھی کوئی ڈاکٹر ہے وہ تو سخت دھو کے باز انسان ہے۔اس نے پہلے میرے نوکر نکلوا دیئے اور پھر مجھے فاقوں پر فاقے دینے شروع کر دیئے۔خیر وہ سنتا رہا سنتا رہا جب اس کا غصہ کسی قدر ٹھندا ہوا تو اس نے کہا کہ بجائے اس کے کہ میں آپ کو کوئی جواب دوں آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر ذرا اپنی شکل تو دیکھ نے شکل دیکھی تو نظر آیا کہ چہرے پر رونق آئی ہوئی ہے اور جس قدر نحوست تھی سب جاتی رہی ہے۔نہ پہلے کی طرح۔رہے ہیں اور نہ جسم بھدا اور بھاری ہے۔جب وہ آئینہ دیکھ چکا تو ڈاکٹر اسے کہنے لگا۔مجھے بڑا افسوس ہے کہ آپ جلدی ہلے کی طرح کھلے لٹک اس چلے آئے اگر آپ ایک مہینہ اور ٹھہر جاتے تو آپ کی صحت بالکل درست ہو جاتی۔