خطبات محمود (جلد 22) — Page 113
$1941 113 خطبات محمود صاف نہیں رکھ سکتا تو دوسرے پر اتنا تو رحم کرے کہ بات کرتے وقت اپنا منہ اس کے کان کی طرف لے جائے اس کی ناک کے سامنے نہ رکھے۔غرض یہ عیب مسلمانوں میں شدید طور پر پایا جاتا ہے کہ وہ صفائی کی طرف توجہ نہیں رکھتے اور اجتماع کے مواقع پر بالخصوص رسول کریم صلی الم کی بیان کردہ ہدایات کو ملحوظ نہیں رکھتے۔حالانکہ رسول کریم صلی الم نے نہایت لطیف رنگ میں اس مسئلہ کی طرف اپنی امت کو توجہ دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں تم جب کسی اجتماع میں شامل ہونے کے لئے آؤ تو کوئی بودار چیز کھا کر نہ آؤ۔اس کے یہ معنے نہیں کہ کہ بد بودار چیز کھا کر تو نہ آؤ لیکن خوشبودار چیز کو ممنہ میں سڑا کر اور اسے بدبودار بنا کر مسجد میں بیشک آ جایا کرو۔اگر کوئی ایسے معنے کرتا ہے تو وہ حد درجہ کا نالائق انسان ہے۔جب آپ نے فرمایا ہے کہ کچا پیاز اور گندنا وغیرہ کھا کر مسجد میں آؤ تو اسی میں یہ بات بھی آ جاتی ہے کہ اگر کوئی اچھی چیز انسان کھائے اور پھر اپنے مُنہ کو صاف نہ کرے اور اس کی سڑاند ممنہ میں پیدا ہو جائے تو اس صورت میں بھی اسے اجتماع سے دور رہنا چاہئے۔پھر رسول کریم صلی الم نے اس کی کیا ہی لطیف حکمت بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں بدبودار چیزوں سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اب فرشتہ کوئی جسمانی چیز تو ہے نہیں کہ بدبو سے اسے تکلیف ہو۔مراد یہی ہے کہ ہر نیک فطرت انسان اس سے اذیت محسوس کرتا ہے اور پاک لوگوں کو اس طرح تکلیف ہوتی ہے اس لئے تم مسجد میں ایسی چیزیں کھا کر نہ آیا کرو جن سے انہیں تکلیف ہو۔ہاں گندے لوگوں کو بد بو سے بے شک کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ شخص جو چیزوں کو سڑا کر اپنے منہ میں رکھتا ہے اور اس کی بُو محسوس نہ کرتا ہو اسے کسی اور کے منہ سے کس طرح بُو آ سکتی ہے۔تکلیف تو اسے ہی ہو گی جو فرشتہ خصلت ہو گا اور پاک صاف رہنے والا ہو گا۔اسی لئے رسول کریم صلی میریم نے فرمایا کہ جمعہ کے لئے آؤ تو کپڑے بدل کر آؤ۔اس کی حکمت تو ظاہر ہی ہے۔کپڑے کو پسینہ لگتا رہتا ہے اور پسینہ میں چونکہ زہر بھی ہوتی ہے اور جو بھی۔پس۔