خطبات محمود (جلد 22) — Page 99
1941ء 99 خطبات محمود کے مگر یہ نہیں بتا سکتا کہ اس نے اسلام کو کیوں قبول کیا۔ اسی لئے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو ہر وقت رہتا رہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مجھے اس سمجھنے کی ضرورت نہیں مگر سنیما کا لفظ وہ کبھی کبھی سنتا ہے اور اس لئے لوگوں سے پوچھ لیتا ہے کہ یہ سنیما کیا چیز ہے۔ مگر لا إلهَ إِلَّا الله کو چونکہ اس نے بچپن سے سنا ہوتا ہے اس لئے وہ خیال کر لیتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ تم میں سے کسی کے بچہ نے اگر ریل کو نہیں دیکھا اور کسی دن تم اسے ریل دکھانے کے لئے لے جاؤ تو وہ جاتے ہی تم پر سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا۔ اگر پنجابی ہو گا تو اپنے باپ سے کہے گا کہ باپو ایہہ کس طرح چلدی ہے؟ کبھی کہے گا کہ کیا یہ دھوئیں کے ساتھ چلتی ہے اور کبھی یہی خیال کرنے لگ جائے گا کہ اس کے اندر کوئی جن بیٹھا ہے جو اسے حرکت میں لاتا ہے۔ غرض وہ تھوڑے سے وقت میں تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا لیکن کیا اس نے کبھی تم سے یہ پوچھا کہ سورج کیوں بنا ہے؟ اس کی روشنی کہاں سے آتی ہے؟ اس کے اندر گرمی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ اور اس کی روشنی اور گرمی ختم کیوں نہیں ہو جاتی؟ وہ کبھی تم سے یہ سوالات نہیں کرے گا لیکن انجن کے متعلق تم سے بیسیوں سوالات کر دے گا اس لئے کہ انجن اس نے ایک نئی چیز کے طور پر دیکھا ہے اور سورج کو اپنی پیدائش سے ہی وہ دیکھتا چلا آیا ہے۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پس جتنی زیادہ کوئی چیز کسی انسان کے سامنے آتی ہے اتنا ہی وہ اس کی حقیقت اور ماہیت سے ناواقف ہوتا ہے۔ یہ ایک قانون ہے کہ جو فطرت انسانی میں داخل ہے کہ جو چیز کبھی کبھار سامنے آئے گی اس کے متعلق وہ سوالات کی بوچھاڑ کر دے گا اور جو بار بار سامنے آتی رہے گی اس کے متعلق وہ کبھی کوئی سوال نہیں کرے گا۔ کیونکہ بار بار سامنے آنے سے دریافت کرنے کی حس ہی ماری جاتی ہے اور انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس کا علم ہے حالانکہ اسے علم نہیں ہوتا۔ چنانچہ تم کسی سے پوچھ کر دیکھ لو کہ سچ کیوں بولنا