خطبات محمود (جلد 22) — Page 100
خطبات محمود 100 $1941 چاہئے۔وہ کبھی تم کو اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔تم اپنے محلہ میں ہی کسی دن لوگوں سے دریافت کر کے معلوم کر سکتے ہو کہ آیا وہ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا نہیں۔جب تم کسی سے پوچھو گے کہ سچ بولنا چاہئے یا نہیں تو وہ کہے گا کہ ضرور سچ بولنا چاہئے مگر جب پوچھا جائے کہ سچ کیوں بولنا چاہئے تو وہ ہنس کر کہہ دے گا کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ سچ کا لفظ بار بار سن کر لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ یہ چیز کسی دلیل کی محتاج نہیں۔حالانکہ یہ بھی ویسی ہی دلیل کی محتاج ہے جیسے اور باتیں دلیل کی محتاج ہیں۔تو لوگ سچ کی تعریف سے بھی واقف نہیں ہوتے، وہ سچ کی ضرورت سے بھی واقف نہیں ہوتے، وہ سچ کے فوائد سے بھی واقف نہیں ہوتے، وہ سچ کو چھوڑنے اور جھوٹ بولنے کے نقصانات سے بھی واقف نہیں ہوتے۔مگر جب ان سے سچ کے بارے میں کچھ پوچھا جائے تو وہ کہہ دیں گے کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔میں نے حضرت خلیفہ اول کو دیکھا کہ آپ سے جب بھی کوئی شخص یہ سوال کرتا آپ ہمیشہ اسے یہ جواب دیا کرتے کہ تم نے دنیا میں کسی سچائی کو قبول کیا ہوا ہے یا نہیں؟ اگر کیا ہوا ہے تو جس دلیل کی بناء پر تم نے اس سچائی کو قبول کیا ہے وہی دلیل احمدیت کی صداقت کا ثبوت ہے۔اس کے جواب میں پوچھنے والا بسا اوقات یا تو ہنس کر خاموش ہو جاتا یا جو دلیل پیش کرتا اسی سے آپ اس کے سامنے احمدیت کی صداقت پیش فرما دیتے۔میرا بھی یہی طریق ہے اور میں نے اپنے تجربہ میں اسے بہت مفید پایا ہے۔چنانچہ مجھ سے بھی جب کوئی شخص سوال کرتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کا کیا ثبوت ہے۔تو میں اسے یہی کہا کرتا ہوں کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم محمد صل ا ل لی ایم کو کیوں مانتے ہو اور کن دلائل سے آپ کی صداقت کے قائل ہو۔جو دلائل رسول کریم صلی ال نیم کی صداقت کے تمہارے پاس ہیں وہی دلائل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کے