خطبات محمود (جلد 22) — Page 88
$1941 88 خطبات محمود کسی نماز کے لئے بھی مسجد میں نہ جائے تو جمعہ پڑھنے کے لئے ضرور چلا جاتا ہے اور جو جمعہ کا بھی پابند نہیں ہوتا وہ عیدین میں شامل ہو جاتا ہے۔بہر حال کسی نہ کسی نماز میں وہ ضرور شامل ہوتا ہے اور ایسے لوگ مسلمانوں میں بہت ہی کم ملیں گے جنہوں نے دو دو یا چار چار سال تک کوئی ایک نماز بھی نہ پڑھی ہو۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں میں لاکھوں لوگ ایسے مل جائیں گے جنہوں نے چالیس چالیس سال تک گرجے کامنہ نہیں دیکھا ہو گا۔یہی حال ہندوؤں وغیرہ کا ہے۔ان میں بھی عبادت کا بہت کم رواج ہے۔جنہوں نے بت خانے بنا کر ان پر پھول چڑھانا اور ان کے آگے سجدہ کرنا عبادت قرار دے دیا ہے۔ان میں تو پھر بھی عبادت زیادہ پائی جاتی ہے مگر آریوں نے چونکہ اس طریق کو غلط قرار دے دیا اس لئے اب ہزاروں میں سے کوئی ایک آریہ ہی ہو گا جو دیانند جی کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عبادت کرتا ہو۔اخباروں میں وہ شور مچائیں گے، جلسوں میں وہ تقریریں کریں گے، مذہب کی سچائی پر وہ دھواں دھار لیکچر دیں گے مگر ان میں سے شاید کوئی ایک سورما اور قومی خادم ایسا نکلے گا جو سال بھر میں ایک دفعہ دیانند جی کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق عبادت کرنے والا ہو۔تو ظاہری جسم بھی ایک بڑی مفید اور کارآمد چیز ہے اور جن قوموں نے عبادت میں جسم کو شامل نہیں کیا وہ رفتہ رفتہ عبادت سے بالکل غافل ہے ہو گئی ہیں۔اسی طرح عبادت میں روزہ شامل ہے اور ظاہر ہے کہ بھوکا پیاسا رہنا ایک الله سة ہے روح نہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ اصل روزہ تو دل کا روزہ مگر چونکہ خالی دل کا روزہ کوئی انسان نہیں رکھ سکتا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھوکا ہے اور پیاسا رہنا بھی ضروری قرار دے دیا۔پھر حج ایک عبادت ہے اور اس کی اصل غرض ہے کہ انسان ہر قسم کے تعلقات کو توڑ کر دل سے خدا کا ہو جائے مگر اس غرض کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک ظاہری حج بھی رکھ دیا اور صاحب استطاعت یہ "