خطبات محمود (جلد 22) — Page 87
$1941 87 خطبات محمود ان کے مذہب نے عبادت کا ایک تھوڑا سا حصہ جو رکھا تھا اسے بھی ان لوگوں نے ملاقات کا ذریعہ اور مقام بنا لیا اور عبادت کی غرض و غایت کو بالکل فراموش کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ صحیح رنگ میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے عیسائیوں میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لئے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں مقرر ہیں اور باوجود اس کے کہ ایک مسلمان کو دن رات میں پانچ مرتبہ مسجد میں جانا پڑتا ہے اور عیسائی ہفتہ میں ایک دن گرجا میں جاتے ہیں، مسجدیں گرجوں کی نسبت زیادہ بھری ہوئی ہوتی ہیں۔بلکہ اس گئی گزری حالت میں بھی مسجد میں جانے والے مسلمان زیادہ ملیں گے اور گرجا میں جانے والے عیسائی کم ملیں گے۔اس لئے کہ ان کے لئے بعض قواعد اور اصول وضع کر دیئے گئے ہیں اور ان قواعد اور اصول کو پورا کرتے ہوئے جو شخص مسجد میں جاتا ہے وہ لازماً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔اگر خالی دل کی عبادت ہی کافی سمجھ لی جاتی تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شست ہو جاتے اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ نماز سے بالکل غافل ہو جاتے۔کیونکہ کسی کو یہ کہنے کے لئے کہ میں دل میں خدا تعالیٰ کو یاد کر رہا ہوں انسان جھوٹ سے بھی کام لے سکتا ہے مگر ایک مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا کیونکہ پہلے وضو کرنا پھر چل کر مسجد میں آنا اور پھر تمام لوگوں کا اکٹھے ہونا اور اس طرح اجتماعی رنگ میں سب کا عبادت کرنا ایسی باتیں ہیں جو نماز سے غافل ہونے ہی نہیں دیتیں اور اگر کوئی غفلت کرے تو وہ فوراً نظر آ جاتا ہے۔چنانچہ غور کر کے دیکھ لو مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہوں گے جو کبھی بھی مسجد میں نہ جائیں۔بہت سے لوگ تو ایسے ہیں جو پانچ وقت مسجد میں جاتے اور اللہ تعالیٰ کی عبات کرتے ہیں اور جو اس میں کسی قدر سست ہیں وہ تین یا چار نمازوں میں چلے جاتے ہیں اور جو اس سے بھی زیادہ سست ہیں وہ دو وقت کی نماز میں شامل ہو جاتے ہیں اور جو اس کے بھی پابند نہیں وہ ایک نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔اور اگر کوئی