خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 81

1941ء 81 خطبات محمود رہتا ہے۔ پس جتنا زیادہ کوئی استغفار کرے اتنا ہی زیادہ وہ خدا تعالیٰ کی شان کو سمجھنے والا ہے اور اتنا ہی زیادہ وہ اس کا فرمانبردار ہے۔ پس ہر وقت استغفار کرتے رہو اور توبہ میں لگے رہو۔ اور روحانیت کے یہ گرے ہوئے کھنڈرات یعنی پیغامی جو تم کو نظر آتے ہیں ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت بھی ان کو تقویٰ پر قائم نہ کر سکی اور ان کے دلوں میں احمدیت کے نام لیواؤں کا بغض اتنا بڑھ گیا کہ یہ ہر انسان کے ساتھ حسن ظنی کر سکتے ہیں مگر احمدیت کے نام لیواؤں کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ جب غیر احمدیوں کے کفر کا سوال آتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی میں 99 وجوہ کفر کی اور ایک ایمان کی ہو تو پھر بھی اس کے متعلق حسن ظنی سے کام لینا چاہئے اور اسے کافر نہیں کہنا چاہئے۔ مگر ہمارے متعلق اگر 99 وجوہ حسن ظنی کی اور ایک بد ظنی کی ہو تو اس وقت بھی یہ امام ابو حنیفہ کا یہ قول بالکل بھول جاتے ہیں اور ہمیشہ بدظنی سے کام لیتے ہیں۔ یہ حالت کیوں ہوئی؟ محض اس وجہ سے کہ ان کی طرف سے کوئی اندرونی گستاخی ہوئی جس سے یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو گئے۔ اور یاد رکھو! کہ ایسے خطرات میں تم بھی اور میں بھی گرفتار ہو سکتا ہوں۔ پس استغفار کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے ۔ ” سے مدد مدد ما مانگتے رہو تا وہ اس مقام سے ( الفضل 5 مارچ 1941ء) بچائے اور