خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 710

* 1941 710 خطبات محمود خدا کا ہی ہے اور اسی کی باتیں سننے کے لئے آپ سب دوست یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔آخر سوچنا چاہئے کہ ہمارا یہ جلسہ تین دن کیوں ہوتا ہے۔اگر صرف میری تقریریں سننا ہی کافی تھا تو تین دن جلسہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اتناہی کافی تھا ایک دن جلسہ کر لیا جاتا اور اس میں میں یا آئندہ جو خلیفہ ہو وہ تقریر کر دیتا مگر ایسا نہیں بلکہ تین دن جلسہ رکھا گیا ہے اور اس میں حکمت یہی ہے کہ مختلف دماغوں سے مختلف باتیں نکلتی ہیں اور سب سے مشترکہ طور پر دوستوں کو فائدہ پہنچانا مد نظر ہوتا ہے۔پس وہ دوست جو خطبہ سن رہے ہیں اس امر کو اچھی طرح یاد رکھیں کہ یہ دن سال میں صرف تین۔دن سال میں صرف تین ہوتے ہیں ان کو اس طرح مضبوطی سے پکڑنا چاہئے جس طرح ایک پھسلنے والی مچھلی کو پکڑا جاتا ہے، جس طرح مچھلی اگر پھسلے تو فوراً دریا میں چلی جاتی ہے اسی طرح اگر یہ تین دن ضائع ہو گئے تو سمجھ لو کہ تمہارا سارا سال ضائع ہو گیا۔کیونکہ بہت لوگ ایسے ہیں جنہیں سال میں صرف ایک دفعہ قادیان آنے کا موقع ملتا ہے اور ان دنوں کے ضائع ہونے کا ان کے سارے سال پر اثر پڑتا ہے۔پس دوست اس بات کو خود بھی یاد رکھیں اور جو دوست یہاں نہیں ان سے بھی جب ملیں تو انہیں سمجھائیں یہاں تک کہ ہماری جماعت کا ہر فرد اس سے آگاہ ہو جائے اور ان تین دنوں میں ہر شخص اپنے اوپر موت وار د کر کے خدا کے دین کی باتیں سننے کے لئے بیٹھا رہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ مولوی اسماعیل صاحب چٹھی مسیح والے جو پنجابی زبان کے بہت بڑے شاعر تھے، وہ ایک دفعہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے آپ تقریر چھوٹی کیا کریں۔میں نے کہا لوگ تو کہتے ہیں کہ میں تقریر اور بھی لمبی کیا کروں اور آپ کہتے ہیں میں تقریر چھوٹی کیا کروں۔یہ کیا بات ہے۔وہ کہنے لگے کہ میرے جیسے تو آپ کی تقریر میں بیٹھے بیٹھے مر جاتے ہیں۔ان کو سلسل البول کی بیماری تھی اور پانچ پانچ سات سات منٹ کے بعد ان کو پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی تھی۔وہ کہنے لگے آپ کی تقریر سننے کے لئے بیٹھتا ہوں تو خیال کرتا ہوں کہ یہ بات جو آپ کہہ