خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 711 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 711

خطبات محمود 711 * 1941 رہے ہیں بڑی اچھی ہے اسے آپ ختم کر لیں تو اٹھوں گا مگر جب آپ اس بات کو ختم کرتے ہیں تو دوسری بات شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی بڑی اچھی ہوتی ہے۔پھر میں کہتا ہوں یہ بات بڑی اچھی ہے اسے بھی سن لوں جب یہ ختم ہو گئی تو اُٹھ کر چلا جاؤں گا مگر اس بات کے ختم ہونے کے ساتھ ہی آپ اور بات شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی بڑی اچھی ہوتی ہے۔میں پھر اپنے دل میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی سن لوں مگر اس کے بعد آپ اور بات شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی اتنی اچھی ہوتی ہے کہ اٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔اسی طرح بیٹھے بیٹھے پانچ گھنٹے گزر جاتے ہیں۔پھر پنجابی میں کہنے لگے “میرا تے پوٹہ پاٹن لگدا ہے ” یعنی میرا تو بیٹھے بیٹھے مثانہ پھٹنے لگتا ہے۔پس اگر اس قسم کی بیماری والا انسان پانچ پانچ گھنٹے بیٹھ سکتا ہے تو تندرست اور مضبوط نوجوان جن کو کوئی بھی بیماری نہیں ہوتی وہ کیوں نہیں بیٹھ سکتے۔بے شک یہ ایک ہلکی سی قربانی ہے مگر اس قربانی کے مقابلہ میں تم اُن لوگوں کو بھی تو دیکھو جو آجکل جنگ کے میدان میں سخت سردی کے موسم میں کھائیوں میں بیٹھے ہیں اور بعض دفعہ ان کے گھٹنوں گھٹنوں تک پانی ہوتا ہے مگر انہیں پلٹ کر کسی اور طرف دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔یہی حکم ہوتا ہے کہ دشمن کو دیکھو اور مارو اور دفعہ تو پانچ پانچ سات سات دن تک وہ اسی طرح بیٹھے رہتے ہیں۔پس اگر دنیا گھنٹوں کے لئے لوگ اس قدر تکلیفیں اٹھا سکتے ہیں تو دین کے لئے صرف تین دن چند کے لئے بیٹھ جانا کونسی بڑی قربانی ہے۔ایسے موقعوں پر تو جیسے مولوی اسماعیل صاحب نے کہا تھا خواہ کس قدر تکلیف پہنچے اور خواہ جسم شدت تکلیف کی وجہ سے پھٹنے لگے پھر بھی کوشش یہی کرنی چاہئے کہ انسان اپنی جگہ پر بیٹھا رہے اور تقریروں کو توجہ سے سنتا رہے۔مگر میں نے دیکھا ہے جو لوگ ادھر ادھر پھر رہے تھے وہ بالعموم بوڑھے نہیں تھے بلکہ نوجوان تھے اور ان کی کوئی ایسی اغراض نہیں ہو سکتیں جو مجبوریاں کہلا سکیں۔پس ان دنوں سے فائدہ اٹھاؤ اور کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف