خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 71

$1941 71 خطبات محمود ضمانت دی ہے۔ممکن ہے جو کچھ میں نے سنا صحیح ہو اور ممکن ہے غیر صحیح ہو جس حد تک جماعت کو نصیحت کا تعلق تھا اور میں نے اسے یہ بتانا تھا کہ ایسے مواقع پر اسے اشتعال میں نہیں آنا چاہئے اس سنی ہوئی بات پر اپنے وعظ کی بنیاد رکھنا میرے لئے کافی تھا کیونکہ اگر وہ بات غلط بھی ہوتی تب بھی کوئی ہرج نہ تھا۔کیونکہ میں نے تو صرف یہی کہنا تھا کہ جماعت کو ایسی باتوں پر جوش میں نہیں آنا چاہئے۔اگر مستری محمد حسین نے ضمانت نہ دی ہوتی تب بھی یہ نصیحت ٹھیک تھی لیکن عدالت میں جاکر بات اور ہو جاتی ہے۔اس کے معنی یہ ہوتے کہ میرے سامنے یہ ضمانت دی گئی تھی مجھے اس قسم کی باتوں سے ایک سے زیادہ مرتبہ واسطہ پڑا ہے۔ایک دفعہ مجھے اچھی طرح یاد ہے ہم غالباً ڈاک بنگلہ میں یا کسی کو ٹھی میں ٹھہرے ہوئے سر ظفر اللہ خان صاحب بھی ساتھ تھے۔جب کچہری کو جانے لگے تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ ایسے سوالات ہوا کرتے ہیں مجھے کیا جواب دینا چاہئے۔یہ کہنا چاہئے کہ علم ہے یا یہ کہ علم نہیں۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ ایسے مواقع ނ عدالت میں علم کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کوئی بات خود دیکھی یا اگر وہ سننے تعلق رکھتی ہے تو براہ راست سنی ہو۔کسی واسطہ سے سنی ہوئی یا دیکھنے والی بات کسی دیکھنے والے سے سنی ہوئی عدالتی لحاظ سے علم نہیں کہلا سکتا۔میں نے ان سے کہا کہ ہمارے چاروں طرف دشمن ہیں ، مخالف ہیں، بعض باتیں مشہور ہیں اور ہم نے بھی سنی ہوئی ہیں گو دیکھی نہیں یا براہ راست نہیں سنیں اگر میں کہہ دوں کہ علم نہیں تو مخالف شور مچا دیں گے کہ جھوٹ بولا ہے۔کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ میں عدالت کے سامنے کھول کر یہ صورت رکھ دوں۔چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں اس میں کوئی ہرج نہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب بھی غالباً ساتھ تھے۔ان سے بھی میں نے ذکر کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ عدالتی طور پر یہ علم نہیں کہلاتا۔چنانچہ ایسے سوالات مجھ سے کئے گئے تو میں نے عدالت سے کہا کہ یہ بات میں نے براہ راست دیکھی اس شخص سے سنی نہیں جس سے یہ متعلق ہے لیکن یوں میں نے سنی ہوئی ہے۔یا