خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 72

خطبات محمود کہ اس پر 72 $1941 ایسی صورت میں مجھے کیا جواب دینا چاہئے؟ آیا کہوں مجھے علم ہے یا یہ کہ علم نہیں۔عدالت نے مجھے کہا کہ آپ یہی کہیں کہ مجھے علم نہیں ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے میں نے پھر کھول کر یہ بات بیان کی کہ ہمارے بہت سے مخالف ہیں وہ اس کے معنی یہ لیں گے کہ میں نے جھوٹ بولا اور گو مجھے ذاتی طور پر علم نہیں اور میں نے آپ فلاں بات نہیں دیکھی یا سننے سے تعلق رکھنے والی براہ راست متعلقہ آدمی سے نہیں سنی۔مگر یوں مجھے معلوم ہے۔اس لئے ایسی صورت میں میرا کیا جواب صحیح ہو گا؟ اس پر عدالت نے پھر یہی جواب دیا کہ صحیح جواب یہی ہے کہ مجھے علم نہیں۔حالانکہ عُرفِ عام کے لحاظ سے میں کہہ سکتا تھا کہ علم ہے۔میں نے اخبار الفضل میں پڑھا ہے کہ میاں محمد صادق صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے عدالت میں یہ جواب لکھوایا کیوں نہیں؟ وہ پولیس کے محکمہ سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ان کا یہ کہنا کہ میں نے یہ بات لکھوائی کیوں نہیں ناواقفیت یا غفلت کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔کیا وہ نہیں جانتے کہ گواہ عدالت کو مجبور نہیں کر سکتا کہ چاہے سرکاری قانون اجازت دے یا نہ دے ضرور اسی طرح لکھا جائے۔میرا کام صرف یہی تھا کہ میں نے ساری صورت حالات عدالت کے سامنے رکھ دی۔باقی ایسے مجبور کر کے اپنی مرضی کے مطابق لکھوانا میرے اختیار میں نہ تھا۔واقعہ کی گواہی پر بیشک عدالت پر زور دیا جا سکتا ہے لیکن ایسے امور کے متعلق جو گواہی سے تعلق نہیں رکھتے ان کا تعلق صرف میاں محمد صادق صاحب کی قسم کے لوگوں سے ہوتا ہے عدالت کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔یہ گواہی کا واقعہ ایک دفعہ دیوان سکھانند صاحب کی عدالت میں پیش آیا ہے اور ایک دفعہ اس سے پہلے ایک اور عدالت میں۔میں خیال کرتا ہوں کہ خود مجسٹریٹ صاحبان کو بھی یہ امور یاد ہوں گے۔پولیس افسر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ عدالتوں کے ضابطہ سے واقف سے واقف ہے اور اس سے اس علم کی بھی امید کی جا سکتی ہے کہ کسی عدالت کو سوالات کے جواب کے سوا اور کسی بات کے لکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔پس میاں محمد صادق صاحب کا