خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 705 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 705

1941ء 705 خطبات محمود مجھے جماعت کو خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ مجھے افسوس ہے کہ آج صبح جب میں یہاں سے دعا کر کے واپس گیا تو کثرت سے گلیاں جماعت کے دوستوں سے بھری ہوئی تھیں جس کے معنی یہ ہیں کہ دعا میں بھی بعض دوست شامل نہیں ہوئے۔ پھر یہ بات معلوم کر کے اور بھی افسوس ہوا کہ باوجود اس بات کے کہ میں نے خاص طور پر توجہ دلائی تھی کہ دوستوں کو تمام تقریریں سننی چاہئیں دعا کے بعد بعض اور لوگ بھی جلسہ گاہ میں سے اٹھ کر چلے گئے۔ حالانکہ جو لوگ یہاں آتے ہیں ان کے آنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ دین کی باتیں سنیں۔ بے شک بعض لوگوں کو قادیان آنے کے سال میں اور بھی کئی مواقع مل جاتے ہیں مگر بعض کو یہ موقع سال میں پھر کبھی میسر نہیں آتا۔ پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ ایسے قیمتی موقع کو بھی اپنی غفلت کی وجہ سے ضائع کر دیتے ہیں۔ دیکھو جس شخص کے دل میں اخلاص ہوتا ہے وہ کیسی قربانی کرتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رسول کریم صلی الی یوم کی وفات سے صرف تین سال پہلے ایمان لائے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ اور لوگ بہت دیر سے اسلام قبول کر چکے ہیں، کوئی میں سال سے اسلام میں داخل ہے، کوئی اٹھارہ سال سے اسلام میں داخل ہے، کوئی چودہ سال سے اسلام میں داخل ہے، کوئی دس سال سے اسلام میں داخل ہے۔ خدا نے ان کے دل میں چونکہ نیکی اور تقویٰ رکھا ہوا تھا اس لئے اسلام لانے کے کے بعد انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں رسول کریم صلی اللی سیم کے دروازہ سے نہیں ہلوں گا اور لوگ بہت باتیں سن چکے ہیں اور میں ان کے سننے سے محروم رہا ہوں۔ اب اس کی تلافی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ میں یہاں سے ہلوں نہیں اور رسول کریم صلی علیم کی تمام باتیں اپنے کانوں سے سنتا رہوں۔ چنانچہ وہ دھرنا مار کر مسجد میں رسول کریم صلی العلیم کے دروازہ پر بیٹھ گئے۔ جب بھی رسول کریم صلی الی یوم باہر تشریف لاتے حضرت ابو ہریرہ موجود ہوتے۔ بے شک کبھی اس وقت زید بھی ہوتا، کبھی بکر بھی ہوتا، کبھی خالد بھی ہوتا مگر اس زید بکر اور خالد کے ساتھ ابو ہریرہ ضرور ہوتے اور چونکہ وہ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہتے تھے اور کماتے کچھ نہیں تھے صا الله سر صد