خطبات محمود (جلد 22) — Page 704
* 1941 704 خطبات محمود۔۔الصلوۃ و السلام نے لکھا ہے کہ تکلیف اٹھا کر اور اپنے کاموں کا حرج کر کے بھی دوستوں کو اس جلسہ میں پہنچنا چاہئے۔پس جلسہ سالانہ کے یہ ایام اپنے اندر بہت بڑی برکات رکھتے ہیں۔پھر اس دفعہ کے جلسہ کو تو اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب خصوصیت دے دی ہے جیسے مسلمانوں میں حج کے متعلق یہ خیال پایا جاتا ہے کہ جب جمعہ کو حج آئے تو وہ بڑی برکت والا ہوتا ہے۔چنانچہ جب کسی سال لوگوں کو معلوم ہو کہ جمعہ کو حج ہو گا تو بڑی کثرت سے لوگ حج کرنے کے لئے جاتے ہیں اور اسے سے اپنے لئے بہت بڑی برکات کا موجب سمجھتے ہیں۔اسی طرح ہمارا یہ جلسہ اپنے اندر یہ خصوصیت رکھتا ہے کہ یہ سارے کا سارا ہمارے لئے عید بن گیا ہے۔چنانچہ اس جلسہ کے پہلے دن جمعہ کی عید ہے، دوسرا دن حج کے تسلسل میں آ جاتا ہے۔چنانچہ کل سے حاجی حج کی تیاریاں شروع کر دیں گے اور پرسوں حج ہو جائے گا۔اس کے بعد اترسوں پھر عید آ جائے گی۔گویا یہ سارے ایام جمعہ اور حج میں ہی گزریں گے۔پھر اس کے ایک طرف جمعہ کی عید ہے، دوسری طرف عید الاضحیہ ہے اور درمیان میں جلسہ سالانہ کی عید ہے جو اس لحاظ سے بھی ہمارے لئے عید ہے کہ وہ دن حج کے ہیں۔پس یہ جلسہ اپنی برکات کے لحاظ سے بہت بڑی خصوصیت رکھتا ہے اور میں سمجھتا ہوں جو لوگ اس جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے وہ بہت سی روحانی برکات حاصل کر کے لوٹیں گے۔اسی طرح جسمانی برکات بھی انہیں حاصل ہوں گی کیونکہ جسمانی برکات روحانی برکات کے تابع ہوتی ہیں۔غرض جو لوگ اس جلسہ پر آئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ ایک بہت بڑی نعمت بخشی ہے اور اس جلسہ کا ہر دن قبولیت دعا کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھنے والا ہے۔پھر جلسہ کے معا بعد عید آ جائے گی اور یہ عید قربانیوں کی عید ہو گی جس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی قربانیوں کو قبول کر لیا اور چونکہ یہ عید ہمارے جلسہ سالانہ کے ساتھ آئے گی اس لئے اس عید کے ایک معنی بھی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جلسہ کو قبول کر لیا۔پس ان دنوں میں