خطبات محمود (جلد 22) — Page 688
* 1941 688 خطبات محمود لحاظ رہائش کا انتظام کیا جاتا ہو جیسا کہ یہاں ہوتا ہے۔پھر دنیا میں اور کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور کے لئے اس رنگ میں انتظام کیا جاتا ہو۔اس میں شامل ہونے والے افراد کے بھی یہ جلسہ معمولی نہیں۔پچپیں، تیس ہزار لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ ایسے جلسے بھی ہوتے ہیں جن میں بہت زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔کانگرس کے جلسوں میں پچاس ساٹھ ہزار لوگ شامل ہو جاتے ہیں مگر وہ شمولیت اور قسم کی ہے۔کانگرس کے جلسوں میں شامل ہونے والے اپنے فائدہ کے لئے شامل ہوتے ہیں۔مگر اس میں شامل ہونے والے ساری دنیا کے فائدہ کی خاطر شامل ہوتے ہیں۔یہ فرق ایسا ہی ہے کہ مثلاً کوئی شخص اپنے گھر میں پلاؤ پکاتا ہے اس لئے کہ خود کھائے اور ایک شخص اس لئے پکاتا ہے کہ غرباء کو کھلائے۔کانگرس کے جلسوں میں شامل ہونے والوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو آزاد کرائیں، حکومت پر ان کا قبضہ ہو اور بڑے بڑے عہدے ان کو مل جائیں۔مگر جو لوگ قادیان میں جلسہ پر آتے ہیں ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تھوڑی سی پونجی جو خدا تعالیٰ نے اُن کو دی ہے اسے خدا تعالیٰ کے لئے قربان کریں تاکہ دنیا کو نور اور ہدایت ملے۔ایسے اجتماع میں آنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔جو انسان کسی نیکی کے کام کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہے اس کی تکمیل بھی اس پر واجب ہو جاتی ہے۔نوافل کے متعلق انسان کو اختیار ہے کہ پڑھے یا نہ پڑھے مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم ہے کہ جب ایک دفعہ نفل کا ارادہ کر لو تو اسے چھوڑ نہیں سکتے۔قرآن کریم میں يُوفُونَ بِالنَّذْرِ 1 کا حکم آیا ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ نوافل کا بجا لانا یا نہ لانا انسان کے اختیار کی بات ہے مگر جب ارادہ کر لیا جائے تو پھر چھوڑ دینا اپنے اختیار میں نہیں۔جب ایک قوم ارادہ کر لیتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی خدمت کے لئے ایک جگہ جمع ہو گی تو پھر وہ ذمہ داری اپنے سر لے لے لیتی ہے