خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 684 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 684

* 1941 684 خطبات محمود ہوتی تھی مگر جب وہ اڑھائی۔سو روپیہ ماہوار ملنے بند ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مجدد کہنے لگ گئے۔گویا خدا تعالیٰ نے دونوں نمونے ان کے سامنے پیش کر دیئے۔یعنی جن لوگوں پر وہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ صدر انجمن احمدیہ کے ملازم ہیں اور اس وجہ سے وہ اصل جماعت احمدیہ نہیں ہیں ان کے سامنے تو جب ایمان کا سوال آیا وہ سینہ تان کر سامنے آ گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم ایمان کے معاملہ میں کسی کی پرواہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔خواہ وہ صدر انجمن احمدیہ کی اکثریت یا اس کا سیکرٹری ہی کیوں نہ ہو مگر دوسری طرف مولوی صاحب کا اپنا نمونہ یہ ہے کہ جب تک وہ اڑھائی سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتے رہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو نبی کہتے رہے مگر جب لاہور چلے گئے تو مجدد کہنے لگ گئے۔جس شخص کے ایمان کا یہ حال ہو کہ وہ اڑھائی سو روپیہ کے بدلے کسی کو نبی کہنے کے لئے تیار ہو جائے اور عدالتوں میں قسمیں کھا کھا کر کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام نبی تھے اسے یہ کس طرح زیب دیتا ہے کہ وہ دوسروں پر طعنہ زنی کرے۔پھر جس شخص کو اُس دن کی روٹی بھی اسی ترجمہ کے طفیل ملی ہو جو اس نے قادیان میں بیٹھ کر اور جماعت احمدیہ سے تنخواہ پا کر کیا تھا اس کو کب یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قادیان والوں کی عیب چینی کرے۔حالانکہ اس نے اس روز صبح کو جو ناشتہ کیا تھا وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھا جو اس نے قادیان میں باقاعدہ تنخواہ لے کر کیا اور اس نے اس روز جو روٹی کھائی تھی وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھی جو اس نے قادیان میں تنخواہ ر کیا اور اس نے اس روز جو کپڑے پہنے تھے وہ بھی اسی ترجمہ کے طفیل تھے جو اس نے قادیان میں تنخواہ پا کر کیا۔کیونکہ اس کا کون انکار کر سکتا ہے کہ جس ترجمہ کے کمیشن پر مولوی صاحب کا گزارہ ہے وہ ترجمہ مولوی صاحب نے اپنے گھر سے کھا کر نہیں کیا بلکہ صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ لے کر اور اس کی خریدی ہوئی لائبریری کیا تھا۔(جس لائبریری کو وہ بعد میں دھوکا دے کر کہ میں چند روز کے لئے لے جاتا ہوں غصب کر بیٹھے ہیں۔ایسا انسان بھلا کس منہ سے یہ کہہ سکتا ہے کہ قادیان مدد سے