خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 669

* 1941 669 خطبات محمود۔تائید میں جنگ میں شامل ہونے کا بھی ذکر ہے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا طریق ہے کہ وہ کبھی ایک قریب کی چیز دکھاتا ہے اور مراد اُس سے دُور کی چیز ہوتی ہے اور کبھی دُور کی چیز دکھاتا ہے اور مراد اُس سے قریب کی چیز ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس نہایت ہی لطیف مضمون کو آئینہ کمالات اسلام ” میں بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ایک چھوٹی چیز کو بڑی شکل میں یا قریب کی چیز کو دور کی چیز کی صورت میں دکھائے جانے کی مثال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتانا صرف یہ تھا کہ آپ کے گیارہ بھائی اور ماں باپ آپ کے تابع فرمان ہو جائیں گے دکھایا یہ گیا کہ گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند نے آپ کو سجدہ کیا ہے۔اب کتنا بڑا نظام عالم حضرت یوسف علیہ السلام کو دکھایا گیا مگر مراد یہ تھی کہ ان کے بھائی اور ماں باپ ان کے تابع ہوں گے۔اسی طرح کبھی ایک بڑی چیز کو چھوٹا کر کے دکھا دیا جاتا ہے۔اس کی مثال میں بھی آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کے ایک واقعہ کو ہی پیش کیا ہے کہ بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔اسی طرح سات سبز اور چند خشک بالیں اسے خواب میں دکھائی گئیں۔1 یہ نظارہ بظاہر بالکل معمولی ہے مگر اس سے مراد یہ تھی کہ ایک اتنا عظیم الشان قحط پڑے گا جس کا اثر سات سال تک رہے گا۔یہ کتنا ہولناک نتیجہ ہے جو خواب سے ظاہر ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے خواب میں گائیں دکھا دیں حالانکہ گائیوں کا کیا ہے تیس چالیس روپے تک میں آ جاتی ہیں مگر ان گائیوں وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ تھی کہ ملک کے رفاہ اور اس کی ترقی کو وجہ سخت نقصان پہنچے گا۔سات سال تک قحط پڑے گا اور ہزاروں لوگ بھوک کی سے مر جائیں گے تو بعض دفعہ ایک چھوٹی چیز دکھائی جاتی ہے اور مراد اس سے بڑی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ایک بڑی چیز دکھائی جاتی ہے اور مراد اس سے اس سے چھوٹی ہوتی ہے۔مجھے بھی اسی قسم کا ایک رویا ہوا۔میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں