خطبات محمود (جلد 22) — Page 640
1941ء 640 خطبات محمود طرف متوجہ ہو گیا۔ اس آیت میں جو ذکر الله کا لفظ آتا ہے اس کے معنے صرف مُنہ سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے نہیں بلکہ وہ خدا کا ذکر جس کے ساتھ عمل نہ ہو انسان کے و بل لئے عذاب کا موجب ہو جاتا ہے۔ اصل ذكر الله یہی ہے کہ انسان منہ کے ساتھ عملاً بھی ذکر الہی کرے اور دین کی ترقی کے لئے وہ قربانیاں کرے جن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا ذکر بلند ہو۔ ایک شخص جو مُنہ سے ذکر الہی کرتا ہے مگر اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کے لئے کوئی قربانی نہیں کرتا وہ ہرگز ذکر الہی کرنے والا قرار نہیں پا سکتا۔ پس جو لوگ اس تحریک میں اب تک شامل نہیں ہوئے میں ان سے بھی کہتا ہوں کہ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرنے کی اہمیت کو محسوس کریں اور اس ذکر الله کی طرف جلدی سے اپنے قدم بڑھائیں۔ قافلہ اب منزل کے قریب پہنچ رہا ہے۔ کیا اب بھی ان کے دلوں میں حسرت پیدا نہیں ہوتی۔ کیا اب بھی ان کے دلوں میں جوش پیدا نہیں ہوتا اور کیا اب بھی ان کے دلوں میں یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اپنی گزشتہ کوتاہیوں کا ازالہ کر کے اپنے آگے بڑھنے والے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ میں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو گو پہلے چندے دیتے رہے ہیں لیکن انہوں نے اس قدر قربانی نہیں کی جس قدر کہ ان کے دوسرے بھائی کرتے رہے ہیں کہ وہ ان تین سالوں سے فائدہ اٹھا کر معمولی زیادتی کی جگہ خاص زیادتی کے ساتھ ان تین سالوں میں حصہ لیں تاکہ ان کا انجام اعلیٰ درجہ کے لوگوں والا ہو اور خواتیم اعمال کے مطابق ہی انسان کا درجہ ہوتا ہے۔ پس اب بھی وقت ہے کہ جو دوست پہلے کم چندہ دیتے رہے ہیں یا قربانی کے مقام کو انہوں نے پہلے صحیح طور پر نہیں سمجھا تھا یا ان دوستوں کی قربانی اور عمل کو دیکھ کر جن کے حالات ان سے زیادہ اچھے نہیں مگر انہوں نے قربانی ان سے زیادہ کی ہے۔ اب ان کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ انہیں زیادہ قربانی کرنی چاہئے تھی۔ وہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں اور آئندہ تین سالوں میں زیادہ قربانیاں کر