خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 630

خطبات محمود 630 * 1941 صعوبتوں سے نہ گھبر ائیں۔سپاہی کا کام یہ نہیں ہوتا کہ وہ فتح پا کر لوٹے۔فتح خدا کے اختیار میں ہوتی ہے سپاہی کا کام لڑنا ہوتا ہے۔چاہے لڑائی میں اسے فتح حاصل ہو یا لڑتا لڑتا مارا جائے۔پس فتح میرے اختیار میں نہیں۔جس چیز کی میرے خدا نے مجھے مقدرت دی ہے وہ یہ ہے کہ میں اس کے فضل سے اس لڑائی کو جاری رکھوں۔یہاں تک کہ موت آ جائے یا اس لڑائی کے نتیجہ میں فتح حاصل ہو جائے۔عواقب کا مجھے خیال نہیں، نتیجہ کی مجھے پرواہ نہیں۔یہ خدا کی چیز ہے اور اس کا ذمہ دار وہ آپ ہے۔مجھے صرف اس امر کا خیال ہے کہ میں اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اس لڑائی میں حصہ لیا ہے ایسی دیانتداری کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کریں کہ ہم خدا سے یہ کہہ سکیں کہ اے خدا! ہم تیرے جلال کے اظہار اور تیرے دین کے غلبہ کے لئے اپنی ہر ممکن کوشش صرف کرتے رہے ہیں۔اب ہماری کوششوں کا انجام تیرے ہاتھ میں ہے۔تو اپنے فضل سے ہمارے غلبہ کے سامان پیدا فرما دے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ممکن ہے ہمیں کبھی شکست ہو جائے۔یہ قطعی طور پر ناممکن ہے مگر پھر بھی میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ ہم فتح حاصل کرنے کے لئے لڑرہے ہیں۔ہم صرف اس لئے لڑ رہے ہیں کہ اپنا حق ادا کر دیں اور اس عہد کو پورا کر دیں جو ہم نے اپنے خدا سے کیا ہے۔باقی اس کے نتائج اگر ہماری زندگی میں نکل آئے تو ہم اپنی آنکھوں انہیں دیکھ لیں گے اور اگر زندگی میں نہ نکلے تو ہماری موت کے بعد خدا کا منشاء پورا ہو سے جائے گا اور مجاہد ہونے کا جو ثواب ہمیں خدا نے عطا کرنا ہے وہ اس کی بارگاہ ہمیں آخرت میں مل جائے گا۔بہر حال آج اس تحریک کے مالی مطالبات کا آٹھواں سال شروع ہوتا ہے اور میں اس خطبہ کے ذریعہ اس کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔سات سال تحریک جدید پر گزر چکے ہیں اور اب آٹھواں سال شروع ہوتا ہے۔میں نے اس تحریک کا دس سال کے لئے اعلان کیا تھا۔جس میں سے سات سال گزر چکے ہیں۔گویا دو تہائی سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے اور اب ایک تہائی سے بھی کم وقت باقی رہ۔