خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 626

خطبات محمود منہ سے 626 الله سة 1941ء نکلی کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر محمد صلی علیم نے غنیمت کے اموال مکہ والوں میں تقسیم کر دیئے۔ قوم میں جاہل بھی ہوتے ہیں، دینی تعلیم سے ناواقف بھی ہوتے ہیں، جلد باز بھی ہوتے ہیں۔ مگر بعض مواقع اس قسم کے فضلوں کے نزول کے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے قوم کا ہر فرد اچھی بات کرے۔ فتح مکہ کا وقت بھی ایسا ہی تھا۔ جب قوم کا ہر فرد خدا تعالیٰ کے حضور گرا ہوا ہونا چاہئے تھا اور دنیا کے مال کا خیال اس وقت کسی ایک فرد کے دماغ میں بھی نہیں آنا چاہئے تھا۔ رسول کریم صلی علیم کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے انصار کو بلایا اور فرمایا اے انصار مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے بعض نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر محمد صلی علیم نے اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے۔ انصار کو جو عشق رسول کریم صلی العلیم سے تھا اس کا اندازہ دوسرے لوگ نہیں لگا سکتے۔ رسول کریم صلی السلام کے منہ سے یہ فقرہ سننا تھا کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ وہ ہچکیاں مار مار کر رونے لگ گئے اور انہوں نے کہا۔ یا رسول اللہ ہم میں ایک نادان نوجوان کے منہ سے سے یہ فقرہ نکلا ہے۔ آپ نے فرمایا اے انصار ! گو ایک نوجوان کے منہ سے نکلا مگر نکل تو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اے انصار ! تم کہہ سکتے ہو کہ محمد صلی الم کو اس کی قوم نے اپنے گھر سے نکال دیا تب ہم نے اسے پناہ دی اور جب اس کی قوم کے لوگ اسے قتل کرنے کے لئے آئے تو ہم نے اپنی جانیں دے کر اس کی حفاظت کی اور اپنی ہر چیز اس کے راستہ میں قربان کر دی۔ پھر ہماری مدد سے ہی اس نے ایک لشکر تیار کیا جس نے مکہ کو فتح کیا۔ مگر جب مکہ فتح ہو گیا تو محمد صلی العلیم نے اموال غنیمت تو اپنے رشتہ داروں کو بانٹ دیئے اور ہمیں کچھ انصار نے پھر روتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم یہ نہیں کہتے۔ ہم میں سے ایک نادان نوجوان نے یہ الفاظ کہے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے انصار ! اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا اور تم اگر چاہو تو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک رسول آیا جسے قبول کرنے کی خدا نے ہمیں توفیق عطا فرمائی پھر اس نے ہمیں اس بات کی بھی سے س تو صد نی نہ دیا۔