خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 627

* 1941 627 خطبات محمود پر توفیق بخشی کہ ہم نے اس کی مدد اور نصرت کی۔یہاں تک کہ خدا نے اپنے دین کو غالب کیا اور وہ مکہ جو مخالفت کا گڑھ تھا فتح ہو گیا۔جب مکہ فتح ہوا تو مکہ کے لوگوں کے دلوں میں خیال آیا کہ شاید ان کی کھوئی ہوئی نعمت پھر انہیں واپس مل جائے گی اور وہ رسول جس کو انہوں نے رڈ کر دیا تھا پھر ان کے شہر میں واپس آ جائے گا۔مگر ہوا یہ کہ مکہ کے لوگ تو اونٹ ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور مدینہ کے لوگ خدا کے رسول کو اپنے ساتھ لے گئے۔پھر آپ نے فرمایا اے انصار !بے شک تم میں سے ایک نوجوان نے یہ بات کہی ہے مگر اس کے نتیجہ میں اب یہی مقدر ہے کہ دنیا میں تم کو کوئی نعمت نہیں ملے گی۔تم اپنا حصہ اب مجھ سے اب مجھ سے حوض کوثر ہی آکر لینا۔چنانچہ آج تک انصار میں سے کسی کو حکومت نہیں ملی۔تو وقت وقت کی بات ہوتی ہے بعض دفعہ ایک چھوٹی سی خدمت انسان کو بہت بلند مدارج تک پہنچا دیتی ہے اور بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات انسان کو تحت الثریٰ میں گرا دیتی ہے۔پس ایسے وقت میں جب خدا دنیا کی اصلاح کے لئے کسی نبی کو بھیجتا ہے۔ترقی کے دروازے بہت کُھلے ہوتے ہیں اور جو لوگ تھوڑی سی خدمت بھی کرتے ہیں ان کی خدمت کو وہ خوب بڑھاتا اور انہیں مدارج پر مدارج عطا کرتا ہے۔مگر ساتھ ہی سزا کے دروازے بھی بہت کھلے ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت جو شخص سستی کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے رستہ میں روک بنتا ہے اور وہ اس کچی دیوار کے مشابہہ ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ کے منہ پر بنائی جائے۔تم جانتے ہو کہ دریا کے مقابلہ میں اس کا کیا حال ہو گا۔اس کا تو کیچڑ بھی نظر نہیں آئے گا اور کوئی چیز اسے برباد ہونے سے بچا نہیں سکے گی۔پس ایسے زمانہ میں جہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔وہاں اگر کوئی ایسے کام کرتا ہے جن سے ترقی میں روک واقع ہوتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آ جاتا ہے۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کا ایک خاص ارادہ ظاہر ہوا ہے اور اُس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ احمدیت کے ذریعہ رسول کریم صلی ایم کی حکومت کو پھر دنیا میں قائم کرے۔