خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 602

* 1941 602 خطبات محمود بھی ان سے مرعوب تھا مگر ہیں تیس سال کے بعد ہی ان کی حکومت ایسی غائب ہوئی کہ اب لکھنؤ کے معنی محض نزاکت کے سمجھے جاتے ہیں۔بے شک ادب میں لکھنو والوں نے کمال حاصل کیا ہے۔بے شک زبان کو انہوں نے خوب مانجھا ہے۔بیشک انہوں نے علم میں اچھی ترقی کی ہے اور ان میں بڑے بڑے عالم گزرے ہیں جیسے میں فرنگی محل کا مدرسہ مشہور ہے۔مگر وہ فوجی اور سپاہیانہ ہنر جن کے ماتحت کسی لکھنو ہو کے زمانہ میں ہندوستان میں ان کا رعب تھا وہ اب ان میں نہیں رہے۔فوجی بھرتی کو دیکھا جائے تو غالباً سارے ہندوستان کی فوج میں پانچ چھ لکھنوی بھی نہیں ملیں گے۔اس کے مقابلہ میں قادیان ایک قصبہ ہے مگر فوج میں قادیان کے ہی ڈیڑھ سو قریب نوجوان مل جائیں گے۔تو لکھنو والوں میں سے فوجی کام کی قابلیت بالکل مٹ گئی ہے حالانکہ کسی زمانہ میں ان کا بڑا رعب تھا۔اسی طرح ہندوستانیوں کو عام طور پر دیکھ لو اب ان میں فوجی کام کی پہلے کی سی روح نظر نہیں آتی۔حالانکہ کہا یہ جاتا ہے کہ ہندوستان کی کسی زمانہ میں اپنی حکومت تھی۔گو واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان انگریزوں کے ہاتھ پر ہی جمع ہوا ہے کسی اور حکومت کے ماتحت تمام ہندوستان کبھی نہیں آیا۔اگر چہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انگریزوں کے ماتحت بھی سارا ہندوستان نہیں۔شاید اللہ تعالیٰ ہندوستان کو ایک چھوٹا عالم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے یا شاید خدا نے اس کے لئے یہ مقدر رکھا ہوا ہے کہ وہ روحانی طور پر احمدیت کے ذریعہ اکٹھا ہو۔بہر حال انگریزوں کے قبضہ میں بھی تمام ہندوستان نہیں۔کچھ پرتگیزی علاقہ ہے اور کچھ فرانسیسی حصہ ہے۔عام لوگ سمجھتے ہیں کہ سارے ہندوستان پر انگریزوں کا ہی قبضہ ہے مگر حقیقتاً یہ درست نہیں۔گووا کا علاقہ کہاں انگریزوں کے قبضہ میں ہے پانڈی چری کا علاقہ کہاں انگریزوں کے قبضہ میں ہے۔چندر نگر کا علاقہ کہاں انگریزوں کے قبضہ میں ہے۔غرض سارا ہندوستان انگریزوں کے ماتحت بھی نہیں۔اسی طرح پہلی حکومتوں میں سے مغلوں کی حکومت بہت بڑی تھی مگر مغلوں کے قبضہ میں بھی ہندوستان پورے طور پر نہیں آیا اور برابر اُن کے زمانہ میں